سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(14) صفا اور مروہ کے پاس کون سا ذکر اور دعا مشروع ہے؟

  • 7345
  • تاریخ اشاعت : 2013-10-27
  • مشاہدات : 903

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

صفا اور مروہ کے پاس کون سا ذکر اور دعا مشروع ہے؟ کیا وہاں پر دُعا اور تکبیر کہتے ہوئے دونوں ہاتھ اٹھائےجائیں گے؟(اگر ہاں تو) اس کا طریقہ کیا ہے؟ صفا او رمروہ پر کتنی مقدار چڑھنا کافی ہوگا؟ کیا عورتیں یا جس کے ساتھ عورتیں ہوں دونوں سبز نشانات کے درمیان ان کا دوڑنا صحیح ہے؟کیاسعی کے دوران کوئی خاص دعا مشروع ہے نیزدونوں سبز نشانات کے درمیان دوڑنے کی حکمت کیاہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اس وال کی چند شقیں ہیں:

پہلی شق: صفا اور مروہ کے پاس مشروع کا- جب انسان صفا کے قریب ہو تو ابتدائے سعی سے پہلے یہ آیت پڑھے:

﴿ إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِن شَعَائِرِ اللَّـهِ ﴾

پھر کہے کہ:

"أَبْدَأُ بِمَا بَدَأَ اللَّهُ بِهِ" 

ترجمہ: میں وہیں سے شروع کرتا ہوں جہاں سے اللہ نے شروع کیا۔

(یعنی چونکہ اللہ تعالیٰ نے صفا کا ذکر پہلے فرمایا ہے لہٰذا ہم بھی سعی وہیں سے شروع کرتے ہیں) پھر صفا پر اتنا چڑھے کہ بیت اللہ شریف نظر آنے لگے۔ پھر جس طرح دعا میں دونوں ہاتھوں کو اٹھایا جاتا ہے، اٹھائے اور اللہ اکبر کہہ کر یہ دعا پڑھے۔

«لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَحْدَهُ، أَنْجَزَ وَعْدَهُ، وَنَصَرَ عَبْدَهُ، وَهَزَمَ الْأَحْزَابَ وَحْدَهُ» ([1])

اس کے بعد جو بھی دعا مناسب سمجھے اپنے لیے کرے پھر دوسری بار مذکورہ ذکر کو دھرائے اور جو دعا چاہے کرے۔ اس کے بعد تیسری بار اس ذکر کو دہرائےاور اتر کر سبز نشانات کی طرف چلے۔ جب سبز نشان تک پہنچ جائے تو تیزی سے دوڑے اور دوسرے نشان تک دوڑتے ہوئے جائے۔ اس کے بعد اطمینان کی چال چلے لیکن عورتیں دونوں نشان کے درمیان نہ دوڑیں۔ اسی طرح جس مرد کے ساتھ عورتیں ہوں وہ ان رعایت میں نہ دوڑے اور مروہ کے پاس پہنچنے پر آیت (إِنَّ الصَّفَا۔۔۔) نہ  پڑھے اسی طرح جب مروہ سے چل کر صفا پر دوسری بار پہنچے تو بھی یہ آیت نہ پڑھے کیونکہ اس کا ثبوت نہیں ہے۔ اپنی سعی کے دوران کو دعا جو بھی دعا چاہے پڑھے اس لیے یہ بھی اجازت ہے کہ تلاوت قرآن مجید اور ذکرِ الٰہی میں مشغول رہے یا تسبیح وتہلیل و تکبیر وغیرہ کہتا رہے اور جب مروہ پہنچے تو وہی کچھ کرے جو صفا پر کیا ہے۔ یعنی دعا وغیرہ۔

سوال کی دوسری شق یعنی صفا اور مروہ پر کتنی مقدار چرھنا کافی ہو گا۔ اس سلسلے میں ہم کہتے ہیں کہ آپ ﷺ صفا پر اتنے اوپر چڑھتے تھے کہ بیت اللہ یا کعبہ شریف نظر آنے لگے اور یہ تو معمولی چڑھنے کے بعد بھی حاصل ہو جاتا ہے۔

سوال کی تیسری شق دونوں سبز نشانات کے مابین دوڑنے کی حکمت آپ ﷺ کی اتباع اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی والدہ کی اس حالت کی یاد دہانی ہے کہ جب وہ وادی میں جہاں آج وہ سبز نشانات بنے ہوئے ہیں اترتیں تو تیز تیز دوڑتیں تا کہ بچے کو دیکھ سکیں۔

بخاری شریف میں ان کا قصہ تفصیل سے مروی ہے۔


) مسلم 1218 الحج حدیث جابر فی حجۃ النبی ﷺ۔[1](

 

فتاوی مکیہ

صفحہ 13

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ