سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(06) جو شخص حجر اسماعیل کے اندر سے طواف کرے کہ..الخ

  • 7337
  • تاریخ اشاعت : 2013-10-27
  • مشاہدات : 336

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

جو شخص حجر اسماعیل کے اندر سے طواف کرے کہ حجر اسماعیل اس کے دائیں اور کعبۃ اللہ اس کے بائیں ہو تو اس کے اس طواف کا کیا حکم ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

سب سے پہلی بات یہ کہ سائل کا اسے حجر اسماعیل کہنا غلط ہے کیونکہ یہ حجر اسماعیل علیہ السلام نے نہیں چھوڑا ہے اور نہ ہی اسماعیل علیہ السلام اسے جانتے تھے بلکہ یہ تو قریش کا عمل ہے۔ کہ جب انہوں نے کعبہ کی تعمیر کا ارادہ کیا اور انہیں اتنا مال میسر نہ ہو سکا کہ اساس اول یعنی قواعد ابراہیمی پر اسے بنا سکیں تو کعبہ سے یہ حصہ الگ کر دیا۔ اس لیے اسے الحجر کہا جانے لگا اور اسے حطیم بھی کہتے ہیں جس کے معنی توڑے ہوئے کے ہیں کیونکہ کعبہ سے اسے توڑ لیا گیا ہے۔ اس کا اکثر حصہ کعبہ کا جزو ہے اس لیے اگر کوئی شخص اس کے اندر سے اس طرح طواف کرے کہ اس دروازے سے داخل ہو جو حطیم کے اور بنی ہوئی عمارت کے درمیان ہے اور سامنے والے دروازے سے نکل جائے تو اس کا چکر مکمل نہ ہو گا کیونکہ طواف کے اندر ہر چکر میں پورے کعبہ شریف اور حجر کا طواف واجب ہے اب اگر کوئی ایسا طواف کرتا ہے کہ حجر کے اندر سے اس نے چکر لگایا تو اس کا طواف صحیح نہیں ہے اور اسے دوبارہ طواف کرنا ہو گا نیز طواف صحیح پر جو احکام مترتب ہوتے ہیں وہ اس طواف پر مترتب نہ ہوں گے مثلا اگر یہ طواف حلال ہونے کے لیے کیا جا رہا ہے تو اس سے محرم حلال نہ ہو گا۔

اس مناسبت سے میں لوگوں کو متنبہ کرنا چاہوں گا کہ جو شخص حج و عمرہ کرنا چاہتا ہے اس پر واجب ہے کہ پہلے ان سے متعلق احکام و مسائل کو اچھی طرح سیکھ لے تا کہ ایسی بڑی بڑی غلطیاں اس سے سرزد نہ ہوں۔

 

فتاوی مکیہ

صفحہ 07

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ