سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(05) کیا آبِ زمزم پینے کی فضیلت میں صحیح احادیث آئی ہیں؟

  • 7336
  • تاریخ اشاعت : 2013-10-27
  • مشاہدات : 2623

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا آبِ زمزم پینے کی فضیلت میں صحیح احادیث آئی ہیں اور وہ حدیثیں کیا ہیں؟ اور کیا زمزم کا پانی پیتے وقت کوئی دعا مشروع ہے؟دوسرے شہروں میں اسے منتقل کرنا جائزہے کہ نہیں، اور کیا اس سے نجاست کا ازالہ اور غسل جنابت کیا جاسکتا ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

میری معلومات کے مطابق آبِ زمزم سے متعلق وارد احادیث میں سب سے اچھی حدیث یہ ہے:

 مَاءُ زَمْزَمَ لِمَا شُرِبَ لَهُ ([1])‏"

ترجمہ: زمزم کا پانی ہر اس ضرورت کے لیے ہے جس کے لیے پیا جائے۔

آب زمزم  پیتے وقت کی دعا سے متعلق کوئی صحیح حدیث اس وقت  مجھے یاد نہیں ہے البتہ  دوسرے مشروبات کی طرح شروع میں اللہ کا نام لیا جائے اور بعد میں اس کی حمد کی جائے گی۔ یعنی جب پینے لگے تو بسم اللہ کہے اور پینے کے بعد الحمد للہ کہے۔

جہاں تک اس پانی کو مکہ المکرمہ سے باہر لے جانے کا تعلق ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ سلف نے ایسا کیا ہے (‎[2]) اور اس لیے بھی کہ جو حدیث اس سے قبل ہم نے ذکر کی ہے کہ زمزم کا پانی جس نیت سے پیا جائے اس کے لیے ہے، یہ مکہ اور اس کے باہر دونوں جگہ پینے کو شامل ہے۔ ([3])


(1) دیکھئے مسند احمد۔ ص 1357، اور ابن ماجہ: 3062، المناسک باب الشرب من ماء زمزم (ارواء الغلیل)

(2) جیسے عائشہ رضی اللہ عنہما فرماتی تھیں کہ آپ ﷺ بھی ایسا ہی کیا کرتے تھے دیکھئے۔ الترمذی: 1962 الحج باب 115

(3) سوال کا یہ جزء کہ زمزم سے نجاست وغیرہ دور کی جا سکتی ہے کہ نہیں۔ اس حصہ کا جواب مطبوعہ کتاب میں موجود نہیں ہے مگر صحیح یہ ہے کہ دور کی جا سکتی ہے۔

 

فتاوی مکیہ

صفحہ 06

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ