سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(681) اب وہ صرف لڑکی کا حق ہوگا یا بھائی کا بھی ہوگا؟

  • 7234
  • تاریخ اشاعت : 2013-10-14
  • مشاہدات : 347

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
ایک شخص نے اپنی بیٹی وداماد کو ترکہ میں صورت میں کچھ زمین دے کرراضی کیا تھا۔ دونوں بیٹی داماد دکھا رہے تھے۔ لیکن دینے والا انتقال کرگیا۔ اس وقت لڑکے کے بھائی نے وہی زمین اس کے ہاتھ سے چھین لی ۔ اب وہ صرف لڑکی کا حق ہوگا یا بھائی کا بھی ہوگا؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک شخص نے اپنی بیٹی وداماد کو ترکہ میں صورت میں کچھ زمین دے کرراضی کیا تھا۔ دونوں بیٹی داماد دکھا رہے تھے۔ لیکن دینے والا انتقال کرگیا۔ اس وقت لڑکے کے بھائی نے وہی زمین اس کے ہاتھ سے چھین لی ۔ اب وہ صرف لڑکی کا حق ہوگا یا بھائی کا بھی ہوگا؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

صورت مرقومہ سے معلوم ہوتا ہے۔ کہ باپ نے لڑکی اراضی ہبہ کردی تھی۔ اورقبضہ بھی کرادیا۔ اس لئے وہ لڑکی کی ملکیت ہوگئی۔ اور اگر محض فائدہ اٹھانے کودی تھی ۔ اور ہبہ نہیں کی تو باپ کے سارے ترکہ میں داخل ہوکرتقسیم ہوگی۔ (اہلحدیث امرتسر ص9۔ 30مارچ 1934ء)


فتاویٰ ثنائیہ

جلد 2 ص 565

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ