سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(672) ماموں کا مطلبہ صحیح نہیں..الخ

  • 7225
  • تاریخ اشاعت : 2013-10-14
  • مشاہدات : 361

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
زید کی بیوی ہندہ بیمار ہوکر اپنے ماموں کے مکان پر گئی اس کی بیماری میں ہر قسم کا خر چ زید نے اٹھایا لیکن کچھ عرصہ کے بعد ہندہ نے انتقال کیا۔ اس کی تجہیز وتکفین وغیرہ بھی سب زید نے کی۔ زید کا زیور جو ہندہ مرحومہ کے پاس تھا۔ اورکچھ پہنے ہوئے تھی۔ وہ سب کا سب ہندہ کے ماموں پاس رہا۔ اب زید ہندہ کے ماموں سے اپنا زیور طلب کرتا ہے۔ تو ہندہ مرحومہ کاماموں کو جہیز طلب کرنے کا شرعا ً حق ہے یا نہیں؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

زید کی بیوی ہندہ بیمار ہوکر اپنے ماموں کے مکان پر گئی اس کی بیماری میں ہر قسم کا خر چ زید نے اٹھایا لیکن کچھ عرصہ کے بعد ہندہ نے انتقال کیا۔ اس کی تجہیز وتکفین وغیرہ بھی سب زید نے کی۔ زید کا زیور جو ہندہ مرحومہ کے پاس تھا۔ اورکچھ پہنے ہوئے تھی۔ وہ سب کا سب ہندہ کے ماموں پاس رہا۔ اب زید ہندہ کے ماموں سے اپنا زیور طلب کرتا ہے۔ تو ہندہ مرحومہ کاماموں کو جہیز طلب کرنے کا شرعا ً حق ہے یا نہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ہندہ کی تمام ملکیت جہیز ہو یا مہر یا زیور بعد وفات ہندہ اس کا ترکہ ہے جو شرعاً تمام ورثاء ہیں۔  تقسیم ہوگا اگر اولاد ہے۔ تو خاوند چوتھے حصے کا مالک ہے۔ اولاد نہیں تو نصف کا وارث خاوند باقی دیگر وارثوں کو ملے گا۔ جو شرعاًحقداار ہوں گے۔ ماموں کا مطالبہ صحیح نہیں ہے۔ (اہلحدیث امرتسر ص13 ۔ 9جولائی 1937ء)


فتاویٰ ثنائیہ

جلد 2 ص 561

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ