سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(613) حق مہر میں مرد کا اور چھوٹی لڑکی کا حق؟

  • 7166
  • تاریخ اشاعت : 2013-10-13
  • مشاہدات : 407

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک عورت انتقال کرنے سے پیشتر وصیت کرگئی۔ کہ میرا مہر میرے والد کودینا کیا اس کے مہر میں  مرد کا اور اس کی ایک موجودہ چھوٹی لڑکی کاحق نہیں ہے۔ ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

وصیت مذکورہ غلط ہے۔ حدیث شریف میں آیا ہے۔ وارث کے لئے وصیت جائز نہیں۔ ماں کی چھٹا حصہ۔ خاوند کاچوتھا اور لڑکی کو نصف ملے گا۔ تقسیم ہوگی گیا رعہ عدد حصص سے جن میں 6 لڑکی کے تین مرد کے اور 2 ماں کے۔ واللہ اعلم۔  (اہلحدیث امرتسر ص 10 25 جمادی الاول 1339ہجری)  

دریافت

اہلحدیث میں بجواب نمبر 54  (مذکورہ بالا)  آپ نے ارقام فرمایا ہے کہ ماں کو چھٹا خاوند کوچوتھا لڑکی کو نصف حصہ اور اس کے بعد آپ نے گیارہ سے تقسیم کرنے کرلکھا ہے۔  سو گیارہ کے نصف 1بٹہ3 5 ہوتے ہیں۔ آپ نے 6 حصے لڑکی کو کیسے دلائے کیا لڑکی کو 6 حصے دینے سے اور کسی کی حق تلفی تو نہ ہوگی۔ اور گیارہ حصہ کی کیا ضرورت ہے اس کو آپ قرآن وحدیث سے مدلل فرمایئے۔

جواب۔ ایسے مسئلہ کو علم میراث میں ردیہ کہتے ہیں۔ اس کی تقسیم  اسی طرح ہوتی ہے۔ کہنے میں ہی آتا ہے۔ کہ لڑکی کو نصف خاوند کو چوتھائی مگر در اصل اس کے  کچھ زائد ہوتا ہے۔ اہل علم اس کی وجہ جانتے ہیں العم  اعند اللہ۔  (اہلحدیث 9جمادی الاخری 1339ہجری)  

تشریح

اس کی تشریح مطابق بیان(1) سراجی یوں ہے۔ زوج ایک بٹہ چار بنت 9 ام 3 سولہ سے مسئلہ کیا جائے چارشوہر کو 9 لڑکی کو 3 ماں کودیا جائے۔  (عبدالرحمان بجوادی)

-----------------------------------------------------

1۔ تشریح ۔ مطابق سراجی  اس قول کی بنا پر  جو زوجین کے رد کے قا ئل نہیں ہیں  میں نے لکھی ہے  مگر حقیقت میں زوجین کے رد کاکوئی مانع نہیں ہے۔ اگر رد کا مسئلہ صحیح ہے۔ توزوجین پر بھی صحیح ہے۔ مولانا مرحوم کے  جواب سے معلوم ہوتا ہے۔ کہ زوجین کےرد کے قائل تھے میں بھی اس سے موافقت کرتاہوں۔ اس بناء پر مولانا کا مسئلہ اسے قائم کرنا صحیح ہے۔  (عبدالرحمٰن بجوادی)

 

فتاویٰ ثنائیہ

جلد 2 ص 497

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ