سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(33) عورت کا خاوند کے گھر کے علاوہ کہیں اور نہ کپڑے اتارنے والی حدیث کی وضاحت

  • 714
  • تاریخ اشاعت : 2012-05-18
  • مشاہدات : 3116

سوال

 
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
حدیث میں یہ ثابت ہے کہ عورت اپنے خاوند کے گھر کے علاوہ کہیں اور کپڑے نہ اتارے ، اس سے کیا مراد ہے ، اورکیا عورت اپنے رشتہ داروں اورگھروالوں کے ہاں کپڑے اتار سکتی ہے ؟


 

 

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

حدیث میں یہ ثابت ہے کہ عورت اپنے خاوند کے گھر کے علاوہ کہیں اور کپڑے نہ اتارے ، اس سے کیا مراد ہے ، اورکیا عورت اپنے رشتہ داروں اورگھروالوں کے ہاں کپڑے اتار سکتی ہے ؟


 

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

نبی کریمﷺ نے فرمایا:

ما من امرأةٍ تضع ثيابها في غير بيت زوجها إلا هتكت الستر بينها وبين ربہا۔ (سنن ترمذی: 2803)

’’ جوعورت اپنےخاوند کے گھر کے علاوہ کسی اور گھر میں کپڑے اتارتی ہے وہ اپنے اوراللہ کے درمیان پردہ ہٹا دیتی ہے۔‘‘

شیخ البانی﷫ نے اس حدیث کو صحیح کہا ہے۔ (صحيح الجامع :رقم 5693)

اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ اگر بے پردگی کا اندیشہ ہو تو اس صورت میں عورت کے لیے خاوند کے علاوہ گھر میں کپڑے اتارنا جائز نہیں ہے لیکن اگر بے پردگی کا خدشہ نہ ہو تو عورت کسی ضرورت کے تحت خاوند کے علاوہ رشتہ داروں کے گھر میں بھی کپڑے اتار سکتی ہے۔

شیخ ابن باز﷫ سے دریافت کیا گیا:

اس حدیث کے مطابق کیا عورت اپنے میکے میں جا کر بھی کپڑے تبدیل نہ کرے؟

تو شیخ صاحب کا جواب تھا:

اس حدیث میں بیان کردہ وعید اس عورت کے لیے ہے جو برائی کی نیت سے کپڑے اتارے، یا ایسی جگہ کپڑے اتارے جہاں مردوں کی نظر پڑنے کا اندیشہ ہو۔ جہاں تک اپنے رشتہ داروں کے گھر میں نہانے کے لیے یا کپڑے تبدیل کرنے کے لیے کپڑے اتارنے کا تعلق ہے تو اگر وہاں بے پردگی کا خدشہ نہ ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔

شیخ ابن عثیمین﷫ سے اس حدیث کی شرح پوچھی گئی تو ان کا جواب تھا:

اگر یہ حدیث صحیح ہے تو اس سے مراد یہ ہے کہ عورت ایسی جگہ پر کپڑے اتارے جہاں مردوں کی نظر پڑنے کا اندیشہ ہو۔ واللہ تعالیٰ اعلم

وبالله التوفيق

محدث فتویٰ

فتویٰ کمیٹی

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ