سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(32) اسلام میں تجدید دین کا تصور

  • 713
  • تاریخ اشاعت : 2012-05-18
  • مشاہدات : 2257

سوال

 

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اسلام میں تجدید دین کا کیا تصور ہے؟ نیز تجدید دین کی ضرورت و اہمیت اور اس کا دائرہ کار کیا ہے؟ مجدد کون ہوتا ہے؟ اس کے اوصاف و شرائط کیا ہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

تحریک تجدد اور متجددین

'تجدد' عربی زبان کا لفظ ہے جس کا مادہ 'ج ۔ د ۔ د' ہے۔ اس مادے سے عربی زبان میں دو اہم الفاظ استعمال ہوتے ہیں' ایک 'تجدد' اور دوسرا ' تجدید' ۔ 'تجدد' باب تفعّل سے مصدر ہے اور اس مصدر سے اسم الفاعل 'متجدد' بنتا ہے جبکہ 'تجدید' باب تفعیل سے مصدر ہے اور اس کا اسم الفاعل 'مجد ِد' استعمال ہوتا ہے۔ معاصر مذہبی اردو لٹریچر میں 'تجدد' ایک منفی جبکہ 'تجدید' ایک مثبت اصطلاح کے طور پر معروف ہے۔

باب تفعیل سے 'تجدید' کا لفظ متعدی معنی میں مستعمل ہے اور 'جدّد الشیئ'  کا معنی ہو گا کسی شے کو نیا کرنا ۔ بعض علماء کا کہنا ہے کہ اس لفظ میں 'تاء' طلب کے معنی میں ہے' یعنی کسی چیز کو نیا کرنے کی خواہش رکھنا۔ امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں:

'' تجدید اس وقت ہوتی ہے جبکہ کسی شے کے آثار مٹ جائیں۔ یعنی جب اسلام غریب اور اجنبی ہو جائے تو پھر اس کی تجدید ہوتی ہے''۔ (مجموع الفتاویٰ' ج١٨' ص٨)۔

مجدد' دین اسلام کی اصل تعلیمات پر پڑ جانے والے پردوں اور حجابات کو اٹھاتا ہے اور دین کا حقیقی تصورواضح کرتا ہے۔ پس تجدید سے مرادکسی شے کی اصلاح' اس میں اضافہ یا تبدیلی نہیں ہے بلکہ اس سے مراد پہلے سے موجود ایک شے پر پڑے ہوئے حجابات کورفع کرناہے۔

علامہ یوسف قرضاوی کے بقول تجدید سے مراد کسی شے کو اس کی اصل حالت پر لوٹانا ہے مثلاً اللہ کے رسولﷺ اور خلفائے راشدین کے دور میں دین اسلام اپنی حقیقی صورت میں موجود تھا' اس کے بعدرفتہ رفتہ لوگوں کے عقاید میں بگاڑ آنا شروع ہو گیا اور بدعتی فرقوں مثلاً خوارج' معتزلہ' جہمیہ' اہل تشیع اور کلامی گروہوں نے بہت سے باطل نظریات اور تصورات کو دین اسلام کے نام پر پیش کرنا شروع کر دیا۔ ائمہ ٔاہل سنت نے ان باطل افکار و نظریات کی شد و مد سے تردید کی اور دین کے اس حقیقی اور صحیح تصور کو واضح کیا جس پر ان گمراہ فرقوں کی کج بحثیوں کے نتیجے میں حجابات پڑ گئے تھے۔ اسی فعل کا نام تجدید ہے اور اس کے فاعل کو' مجدد' کہتے ہیں۔ 'تجدید ِعہد' کی اصطلاح عربی زبان میں معروف ہے اور اس سے مراد کوئی نیا عہد باندھنا نہیں ہے بلکہ پہلے سے موجود عہد کو پختہ اور نیا کرنا ہے۔

پس اسلام کی تجدید سے مراد کوئی نیا اسلام پیش کرنا نہیں ہے بلکہ پہلے سے موجود اسلام پر گمراہ اور بدعتی فرقوں کی طرف سے ڈالے گئے حجابات کو رفع کرتے ہوئے اسلام کو از سر ِنو نیا کرنا ہے۔ اللہ کے رسولﷺ کا ارشاد ہے:

ِنَّ اللّٰہَ یَبْعَثُ لِھٰذِہِ الْاُمَّةِ عَلٰی رَأْسِ کُلِّ مِائَةِ سَنَةٍ مَنْ یُّجَدِّدُ لَھَا دِیْنَھَا۔( سنن ابی داود' کتاب الملاحم' باب ما یذکر فی قرن المائة )’ اس روایت کو علامہ البانی نے صحیح قرار دیا ہے۔

''بے شک اللہ تعالیٰ ہر صدی کے آخر میں اس اُمت کے لیے ایک ایسے شخص کو بھیجتے ہیں جو اُمت کے لیے اس کے دین کی تجدید کرتا ہے۔''

اس کے برعکس باب تفعّل سے 'تجدد' کا لفظ لازمی معنی میں استعمال ہوتا ہے اور ' تجدّد الشّیئ'  کا معنی ہو گا :کسی شے کا نیا ہو جانا۔ عربی زبان میں'تجدّد الضّرع' کا معنی ہے: جانور کے دودھ کا چلے جانا۔ جب جانور کا پچھلا دودھ چلا جائے گا تو اب نیا دودھ آئے گا اور اسی کو 'تجدّد الضرع' کہا گیا ہے ۔ پس تجدد کا معنی ہے پہلے سے موجود کسی شے کا غائب ہو جانا اور اس کی جگہ نئی چیز کا آجانا۔ پہلے والا دودھ دوہنے کے بعد جانور کے تھنوں میں جو نیا دودھ آئے گا' وہ نیا تو ہے لیکن پہلے والا نہیں ہے۔ اسلام کے تجدد سے مراد یہ ہو گی کہ پہلے سے موجود اسلام غائب ہوجائے اور اس کی جگہ نیا اسلام آ جائے ۔ اس کو اردو میں تشکیل جدید اور انگریزی میں 'Reconstruction' بھی کہتے ہیں۔ یعنی اسلام کی عمارت گر گئی ہے اور اسے ازسر ِنو تعمیر کرنا چاہیے۔

سید سلیمان ندوی ڈاکٹراقبال مرحوم کے 'تشکیل جدید' کے تصور کا رد کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

''اقبال مرحوم نے خطبات کا نام Re-constructionرکھا' مجھے اس پر بھی اعتراض تھا' تعمیر نو یا تشکیل نو کا کیا مطلب؟ کیا عمارت منہدم ہو گئی؟تشکیل نو کا مطلب دین کی ازسر نو تعمیر کے سوا کیا ہے؟ یعنی اسلام کی اصل شکل مسخ ہو گئی'اب اسے از سر نو تعمیر کیا جائے۔ یہ دعویٰ پوری اسلامی تاریخ کو مسترد کرنے کے سوا کیا ہے؟'' (سہ ماہی اجتہاد' خطباتِ اقبال کا ناقدانہ جائزہ' جون٢٠٠٧ء' ص٥٤)۔

اس بحث کا خلاصہ یہی ہے کہ 'تجدید' ایک مثبت لفظ ہے اور دین میں مطلوب ہے جبکہ تجدد ایک منفی اصطلاح ہے اور دین میں ایک ناپسندیدہ فعل ہے۔

وبالله التوفيق

محدث فتویٰ

فتویٰ کمیٹی


ماخذ:مستند کتب فتاویٰ