سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(497) بینک ملازم کے گھر کھانا کھانے کا حکم

  • 7050
  • تاریخ اشاعت : 2024-05-27
  • مشاہدات : 2256

سوال

(497) بینک ملازم کے گھر کھانا کھانے کا حکم
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میرا سوال یہ ہے کہ ایک بندہ جو بینک میں ملازم ہے اور اس کا گھر بینک کی تنخواہ سے چلتا ہے اس کے گھر جانا کیسا ہے ؟ نیز اگر قریبی رشتہ داری ہو اور وہ اپنے گھر میں بلا رہے ہوں لیکن کھانے کی ضیافت وہ اپنے بیٹے کی حلال کمائی سے کرنا چاہیں تو ان کی دعوت قبول کی جا سکتی ہے ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

بینک ملازمین کی آمدن حرام ہے، اس لیے بینک ملازم کے ہاں نہ تو کھاپی سکتے ہیں اور نہ ہی ان کی گاڑی یا کوئی بھی وہ چیز جو اس حرام آمدن سے خریدی گئی ہو استعمال کرسکتے ہیں ۔اگر آپ کے محتاط رویہ سے وہ ناراض ہوں اور قطع تعلق کریں تو پھر وہی گناہ گار ہوں گے۔ ان کے ساتھ صرف دعاء و سلام رکھیں تو یہ قطع تعلقی کے زمرے میں نہیں آئے گا۔ البتہ اگر آمدن کا کوئی حلال ذریعہ بھی ہو جس کی مقدار بینک کی آمدن سے زیادہ ہو تو پھر کھانا کھانے کی گنجائش ہے۔ بشرطیکہ آپ کو یقین ہو کہ یہ دعوت مال حلال سے تیار کی گئی ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ ثنائیہ

جلد 2

تبصرے