سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(489) پونڈ میں کمی بیشی جائز ہے

  • 7042
  • تاریخ اشاعت : 2013-10-08
  • مشاہدات : 745

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

  یہاں افریقہ میں پونڈکی قمیت دس روپے ہے اور ہند وستان میں پندرہ روپے جب بھی کوئی آدمی افریقہ سے انڈیا کو روپے روانہ کرتا ہے تو اس کو جتنی کہ اس کی اصل رقم افریقہ کی ہے اس سے ڈیڑھ گنا ہ یعنی ایک روپے کا ڈیڑھ روپیہ ہندوستان میں ملتی ہے یہ قانون گورنمنٹ کی طرف سے افریقہ میں ہے اور سب آدمی اسی طرح سے روپیہ روانہ کرتے ہیں تو یہ جو ڈیڑھ گناہ روپیہ ملتا ہے یہ لینا مسلمان کے لئے شرعاً جائز ہے یا نہیں دیگر اگر کوئی آدمی ہندوستان سے ایک سو روپیہ افریقہ میں لائے تو اس کو ایک سو ہندوستانی روپے یہاں افریقہ میں افریقہ کا مبلغ ۳۸ روپے آٹھ آنہ گورنمنٹ منظور کرتی ہے ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

پونڈ سونے کا اور روپیہ چاندی کا ہے اس لئے اس میں کمی پیشی جائز ہے افریقہ میں ایک پونڈیا نوٹ دس روپے کا دے کر ہندوستان کے ۱۵ روپے لے سکتا ہے منع نہیں افریقہ میں ایک سو کے مبلغ ۲۷ روپے آٹھ آنے چونکہ سرکارنے مقرر کئے ہیں جس کا سکہ ہے اس میں رعیت کو اختیار نہیں ، لہذاوہ بھی جائز ہےذیادہ احتیاط مد نظر ہو تو روپے کے بدلے میں وہاں چلتے ہوئے نوٹ لےلیا کریں

،  (اہلحدیث امرتسر ۱۸ربیع الثانی ۱۳۴۱ء؁)



فتاویٰ ثنائیہ

جلد 2 ص 404

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ