سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(472) بھاؤ بتانے میں دغا جائز نہیں

  • 7025
  • تاریخ اشاعت : 2013-10-06
  • مشاہدات : 297

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
آج کل جو دوکاندار بازار سے چیزیں کر محلہ کی دوکانوں میں فروخت کرتے ہیں اس طریقہ پر کہ بازاار، (منڈی) سے سستا لیتے ہیں اور اپنی دوکان پرمہنگا بیچتے ہیں مثلاًبازار سے دس سیر چیز خرید کر دو کا ن پر ۸سیرنی روپیہ بیچتے ہیں اور اس چیز کا نرخ بازار میں دس سیرنی روپیہ ہے اس حالت میں ان کا بازار کے نرخ سے نقدی پر کم دینا جائز ہے یا سود ہے ہر دو مسائل کا جواب تسلی بخش عنا یت فرما دیں ۔
اس طرح زید ایک دوکاندار ہے گندم کا بازار ۲۰ سیرنی روپیہ ہے مگر جب بکر زید سے نقد گندم لنیے آتا ہےتو زید اس کو پورے ۲۰ سیر گندم دیتا ہے اور جب بکر ا اس سے ادھار گندم لینے آتاہے تو فی روپیہ ادھار پر ۱۶ سولہ سیر گندم دیتا ہے تو یہ چار سیر کی کمی سو د ہو گی یا نہیں ؟      ،  (غلام محمد ڈار گوجرانوالہ)

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

آج کل جو دوکاندار بازار سے چیزیں کر محلہ کی دوکانوں میں فروخت کرتے ہیں اس طریقہ پر کہ بازاار، (منڈی) سے سستا لیتے ہیں اور اپنی دوکان پرمہنگا بیچتے ہیں مثلاًبازار سے دس سیر چیز خرید کر دو کا ن پر ۸سیرنی روپیہ بیچتے ہیں اور اس چیز کا نرخ بازار میں دس سیرنی روپیہ ہے اس حالت میں ان کا بازار کے نرخ سے نقدی پر کم دینا جائز ہے یا سود ہے ہر دو مسائل کا جواب تسلی بخش عنا یت فرما دیں ۔

اس طرح زید ایک دوکاندار ہے گندم کا بازار ۲۰ سیرنی روپیہ ہے مگر جب بکر زید سے نقد گندم لنیے آتا ہےتو زید اس کو پورے ۲۰ سیر گندم دیتا ہے اور جب بکر ا اس سے ادھار گندم لینے آتاہے تو فی روپیہ ادھار پر ۱۶ سولہ سیر گندم دیتا ہے تو یہ چار سیر کی کمی سو د ہو گی یا نہیں ؟      ،  (غلام محمد ڈار گوجرانوالہ)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

دونوں صورتیں جائز ہیں نیل الادظارجلد ہ ص ۱۳ملا حظہ ہو ہاں یہ ضروری ہے کہ بھاؤبتلانے میں دغا نہ کرے بلکہ صاف صاف کہے ، یعنی یہ نہ کہے کہ منڈی میں بھی یہی بھاؤ ہے بلکہ صاف کہہ یہ بھا ؤ دونگا خریدار کی مرضی ہو لے یا نہ ہو لے  (۱۹فروری۱۵؁ء)

تشریح :۔

 ایسی بیع جائز ہے لعموم الا دلته ابفا ضيت بجواه كفو له تعالي احل الله البيع و حرم الربواد و قوله تعالي يا يها الذين امنو لا تا كلو ا امولكم بينكم با بطل الاان تكون تحارت عن تراض منكم و غير ذلك من النصوص قال في النيل هن ۱۳جلدهرهو مذ هب اشا فعيه وا لحنفيه والجمهورالخ ومن قال يحرحر بيه الشئ با كثر من سعر يو لا جل انسأتمسك بحديث ابي حريرۃ رضي الله تعالي عنه مرفوعا من با ع بيعتين في بيعت فله دار كها ادا الر بار راه ابوداود وفيه ان فى استا د محمد بن عمر و بن علقة قال فى النيل هن ۱۶جلده و قد تكلمه فيه غيره واحدقال المنذرى و ال مشهور عنه من رواية الدراوردى و محمد بن عبدالله الا نصارى انه  صلي الله عليه واله سلم  نهي عن بيعتين فى بية قا ل هن ۱۳ج۵ولا حجة فيه على المطلوب و لو سلتا ان تلك الر وا ية التي تفر د بها ذلك الر ادي صا لحة للا حتجاج لكا ن احتما لها لتفسيراخا رج عن محل النزاع كها سلف هن۱۶ج ه عن ابن رسلان روهو ان يسلفه دينا راني تفيز حنطة الي شهر  فلما حل الا جل طالبه با لحنطة قال يعنى ا لقفييز الذى لك  على الى شهر  ين بقفيز ين  نصلا ذلك بيعتين في بيعة لا ن البيع الشاني قد دخل الا على دل نير داليه اوكحما و هوا لا دل كذانى شر ح السنن لا بن رسلا ن قا د حا نى الا ستد لا ل بحا على المتنا زع فيه على ان غا ية ما الدة الميبع من البيع اذا وقع على هذه الصورة وهى ان يقو ل نقد اكذاو نسئة بكذا لا اذا قال من او ل ا لا مر نسئة بكذا فقظ و كان ا كثر من سعر يومه مع ان  المسكين بهذا الرواية يمنون من هذه الصورة ولا يدل الحديث علي ذلك فلد ليا اخص من الدعوى وقد جمعنا رسا لة في هذه المسئلة وسمينا ها شفا ما لغدل في حكم زيا دة الثمن ببحود الاجل و حققنا ها تحقيقا لم نسبق اليه والله المه با لصواب كتبه محمد عبدالله   

 (سید محمد ندیر حسین فتاوی نذیر یر۲ ج ۶)

 

فتاویٰ ثنائیہ

جلد 2 ص 394

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ