سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(467) شراکت میں کام جائز ہے

  • 7020
  • تاریخ اشاعت : 2013-10-06
  • مشاہدات : 301

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
دو اشخاص اس طرح شراکت میں کام کرتے ہیں کہ ایک شخص کا محض روپیہ ہے دوسرا صرف کاروبار کی دیکھ بھال،خرید و فروخت  کر تاہے،نفع نقصان کا حصہ اسی طرح مقرر ہے ،فریق اول کا دو تہائی یا نصف مقرر ہے، علی ہذا القیاس دوسرے کا ایک تہائی یا نصف ہے ،اب سوال یہ ہے کہ اس طرح کا کا روبا ر ہر دو فریق کو جائز ہے یا نا جائز ؟ اگر نا جائز ہے ،تو کس فریق کو آیا فریق اول کو یا دوم کو ؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

دو اشخاص اس طرح شراکت میں کام کرتے ہیں کہ ایک شخص کا محض روپیہ ہے دوسرا صرف کاروبار کی دیکھ بھال،خرید و فروخت  کر تاہے،نفع نقصان کا حصہ اسی طرح مقرر ہے ،فریق اول کا دو تہائی یا نصف مقرر ہے، علی ہذا القیاس دوسرے کا ایک تہائی یا نصف ہے ،اب سوال یہ ہے کہ اس طرح کا کا روبا ر ہر دو فریق کو جائز ہے یا نا جائز ؟ اگر نا جائز ہے ،تو کس فریق کو آیا فریق اول کو یا دوم کو ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

بلا اتفاق جائز ہے ،  (اہلحدیث امرتسر ۱۵اگست ۱۹۳۰؁ء)

فتاویٰ ثنائیہ

جلد 2 ص 392

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ