سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(464) ساہوکاری اور تجارت پیشہ

  • 7017
  • تاریخ اشاعت : 2013-10-06
  • مشاہدات : 248

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
یہاں ساہوکار اور تجارت پیشہ ہندو مسلمان ہیں ان میں یہ رواج ہے کہ پارچہ ہو یا کریا نہ یا غلہ وغیرہ ہونی مبتلاد ہر پاؤنیم آنہ یا فی سینکڑہ ایک آنہ لیا کرتے ہیں کہیں دو آنے لیتے ہیں مختلف قسم ہیں ساہوکاریوں وغیرہ اور مسلمان خیرات و مساجد وغیرہ میں صرف کرتے ہیں اگر نہ دیں تو خرید وفروخت میں بحث ہوتی ہے اور سوداٹوٹ جا تا ہے ایسی صورت میں لینا دینا گنا ہ ہے یا نہیں ؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

یہاں ساہوکار اور تجارت پیشہ ہندو مسلمان ہیں ان میں یہ رواج ہے کہ پارچہ ہو یا کریا نہ یا غلہ وغیرہ ہونی مبتلاد ہر پاؤنیم آنہ یا فی سینکڑہ ایک آنہ لیا کرتے ہیں کہیں دو آنے لیتے ہیں مختلف قسم ہیں ساہوکاریوں وغیرہ اور مسلمان خیرات و مساجد وغیرہ میں صرف کرتے ہیں اگر نہ دیں تو خرید وفروخت میں بحث ہوتی ہے اور سوداٹوٹ جا تا ہے ایسی صورت میں لینا دینا گنا ہ ہے یا نہیں ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ایسے معاملات کے متعلق عام اصول آیا ہے، (المسلون على شرطهم) جائز طریقہ  سے ہو وہ پوری کرنے چاہیے مرقومہ صورت میں جو کا ٹ کاٹی جاتی ہے یہ ایک شرط ہے جو بائع اور مشتری دونوں کو معلوم ہے لہذا جائز ہے،

 (اہلحدیث ۲۳ذی الجحہ ۳۸؁ء)

 

فتاویٰ ثنائیہ

جلد 2 ص 391

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ