سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(19) بے نماز کی تعریف

  • 700
  • تاریخ اشاعت : 2012-05-17
  • مشاہدات : 752

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
بےنماز کس کو کہتے ہیں۔کیا بےنماز ہمیشہ تارک الصلوۃ کوکہا جاتا ہےیا جو چند یوم نماز پڑھے پھرچھوڑ دے یا جوصرف جمعہ اورنماز پڑھے باقی نمازیں نہ پڑھے۔ ایسے لوگوں پرنماز جنازہ ادا کرنے کاکیا حکم ہے؟ اگرکوئی امام یاعالم نماز جنازہ نہ پڑھے تواس کا عمل شرعی نقطہ نظر سے کیا حثیت رکھتا ہے۔ اگربے نمازپرنمازجنازہ نہ پڑھنے کی صورت میں شرارتی افرد مسجد کےنام سے کوئی عمارت الگ بنالیں تواس مسجد میں نماز پڑھنا جائز ہے کیا وہ مسجد ضرار تو نہیں۔؟


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

بےنماز کس کو کہتے ہیں۔کیا بےنماز ہمیشہ تارک الصلوۃ کوکہا جاتا ہےیا جو چند یوم نماز پڑھے پھرچھوڑ دے یا جوصرف جمعہ اورنماز پڑھے باقی نمازیں نہ پڑھے۔ ایسے لوگوں پرنماز جنازہ ادا کرنے کاکیا حکم ہے؟ اگرکوئی امام یاعالم نماز جنازہ نہ پڑھے تواس کا عمل شرعی نقطہ نظر سے کیا حثیت رکھتا ہے۔ اگربے نمازپرنمازجنازہ نہ پڑھنے کی صورت میں شرارتی افرد مسجد کےنام سے کوئی عمارت الگ بنالیں تواس مسجد میں نماز پڑھنا جائز ہے کیا وہ مسجد ضرار تو نہیں۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

جن دنوں میں کو ئی نماز پڑھے ان دنوں میں مر جائے تو اس کی نماز جنازہ پڑھی جائے ورنہ  نہیں۔ کیونکہ اعتبا ر خاتمہ کا ہے اورجو بےنماز کا جنازہ نہ پڑھے وہ عین حق پرہے اوراس وجہ سے جومسجد بنائی جائے وہ مسجد ضرار ہے کیونکہ اس کی بنیاد حق پرنہیں بلکہ تفریق اور ضرر کے لئے ہے۔

وباللہ التوفیق

فتاویٰ اہلحدیث

کتاب الصلوۃ،نماز کا بیان، ج2ص46 

محدث فتویٰ


ماخذ:مستند کتب فتاویٰ