سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(939) بے نماز کا جنازہ

  • 699
  • تاریخ اشاعت : 2012-05-17
  • مشاہدات : 514

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
زیدعمرو دوشخص نمازی وحاجی ہیں۔ زیدکاحقیقی بھائی دائمی بےنمازہوگیا۔عمرو اس کےجنازہ پرنہیں گیا۔زیدنےناراض ہوکر عمروسےمصافحہ ومعانقہ چھوڑدیا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ شریعت جنازہ نہ پڑھنےوالے پربھی تعزیر لگاتی ہےیانہیں۔کیازید کی ناراضگی حق پرہے یا باطل پر۔؟


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

زیدعمرو دوشخص نمازی وحاجی ہیں۔ زیدکاحقیقی بھائی دائمی بےنمازہوگیا۔عمرو اس کےجنازہ پرنہیں گیا۔زیدنےناراض ہوکر عمروسےمصافحہ ومعانقہ چھوڑدیا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ شریعت جنازہ نہ پڑھنےوالے پربھی تعزیر لگاتی ہےیانہیں۔کیازید کی ناراضگی حق پرہے یا باطل پر۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

عمروحق پرہے۔زید غلطی پرہے۔بےنمازکاجنازہ نہیں  پڑھنا چاہیئے۔چنانچہ حدیث میں ہے۔

«من ترک الصَّلوۃ متعمداً فقد کفر»

یعنی جوشخص دیدہ دانستہ نماز چھوڑےوہ کافرہے۔

وباللہ التوفیق

قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل

جلد 01 

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ