سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(936) بے نماز اور اس کی اولاد کا حکم

  • 696
  • تاریخ اشاعت : 2012-05-17
  • مشاہدات : 813

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
بے نماز کا جنازہ پڑھنا کیسا ہے ۔اور بے نماز کی اولاد کا کیا حکم ہے۔کیا انہیں هم من اٰبايهم کے تحت کردیا جائے۔؟


السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

بے نماز کا جنازہ پڑھنا کیسا ہے ۔اور بے نماز کی اولاد کا کیا حکم ہے۔کیا انہیں هم من اٰبايهم کے تحت کردیا جائے۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد! 

 بےنماز کا جنازہ  نہ پڑھنا چاہیئےجس کی دووجہیں ہیں ۔

ایک یہ کہ بےنماز کافر ہے اورکافرکی نمازنہیں ہوتی ۔

دوم ۔بےنمازوں کوتنبیہ ہوجائے گی۔جیسے خودکشی کرنے والے پراورمقروض پررسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نےنمازجنازہ نہیں پڑھی حالانکہ خودکشی اورقرض سے ترک نماز بڑا گناہ ہے۔بس اس کی وجہ سےبطریق اولیٰ نمازجنازہ ترک ہونی چاہیے ۔رہا بےنماز کی اولاد کا مسئلہ تواس کے متعلق ظاہراً بحکم حدیث هم من ابائهم ۔وہ اپنے باپوں سے ہیں ۔اصل تویہی ہے کہ نمازجنازہ نہ پڑھے کیونکہ کافروں کی اولاد ظاہری احکام میں ماں باپ کےتابع ہوتی ہیں  لیکن حدیث هم من اٰبائهم میں دواحتمال ہیں ۔ایک یہ کہ اس کا تعلق تقدیر کےمسئلہ سے ہے اورمطلب یہ ہےکہ جیسے کفّارجہنمی ہیں ۔ان کی اولاد کی بابت بھی تقدیر میں فیصلہ ہوچکا ہے کہ وہ جہنمی ہے ۔دوم یہ کہ وہ جہنمی نہیں بلکہ ظاہری احکام شرعی کفن دفن نماز جنازہ نہ ہونے میں وہ کفار کے حکم میں  ہے۔اس طرح جنگ میں اتفاقیہ مارے جائیں  توکوئی حرج نہیں ۔نیز غنیمت کے مال میں آکرغلام لونڈیاں ہوجاتے ہیں۔غرض اس قسم کے احکام میں وہ کافر سمجھےجاتے ہیں آخرت میں خواہ وہ جنتی ہوجائیں اگردوسرا احتمال لیں توبےنماز کا جنازہ نہ پڑھنا  چاہیے ۔اگرپہلااحتمال لیں تواس کی پھردوصورتیں ہیں ۔

ایک یہ کہ وہ اپنے ماں باپ کی طرح جہنمی ہیں ۔

دوسرا یہ کہ آخرنکالے جائیں گے۔

چنانچہ بعض احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ جنتی ہیں ۔اگرپہلی صورت لیں توبےنمازکی اولاد کا جناز ہ  نہ پڑھنا چاہیے ۔اگردوسری صورت لیں توپڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہوتا ۔

ممکن ہے کہاجائے کہ جب بے نماز کا فر ہے تواس کا حکم باقی کفار کی اولاد کی طرح ہونا چاہیے۔خواہ حدیث هم من ابائهم۔تقدیرکے مسئلہ سے متعلق ہویا احکام ظاہری سے جواب اس کا یہ ہےکہ ہندویا عیسائی وغیرہ کے کفرسے کوئی انکار کرے تووہ کافرہوجاتا ہے۔بےنمازکے کفرسےانکارکرنےوالا کافر نہیں کیونکہ اس کےکفر میں سلف کےزمانہ  سے کچھ اختلاف چلا آتا  ہے ۔گویا بےنمازکےکافر کا ثبوت ظنی ہے اور باقی کفّارکے کفر کاثبوت قطعی ہے اورظاہر ہے کہ دوسرے شخص کومحض تابع ہونے کی وجہ سےکافرکہنا ذرامشکل ہے لیکن قطعی کفر کے متعلق چونکہ اجماع ہے کہ اولاد تابع ہوکرظاہری احکام کےلحاظ سے کا فر کہلاتی ہے اور ظنی کفر کی بابت اجماع ثابت نہیں۔اس لئے بے نماز کی اولاد باقی کفارکی اولادمیں فرق کی گنجائش ہے۔پس اگرحدیث هم من ابائهم۔ظاہری احکام سے متعلق ہوتوبے نماز کی اولاد کو اس  کے تحت لاکرکہا جاسکتا ہے کہ اس کی نماز جنازہ  نہیں۔ورنہ محض تابع سمجھ کرکافرکہنا اور نمازجنازہ  کی  نفی کرنا ذرا مشکل ہے ۔ہاں بےنمازکی تنبیہ کےلئے اس کی اولاد پرنماز جنازہ ترک کردی جائے تو اس کی گنجائش ہرصورت میں ہے خواہ حدیث هم من ابائهم  ظاہری احکام سے متعلق ہویا نہ ہو۔

تنبیہ

اس تحقیق سے ایک اور مسئلہ بھی محقق ہوگیا ہے وہ یہ ہےکہ اگربےنمازکےنکاح میں نمازی عورت ہوتوان کی اولاد حرام کی ہونی چاہیے کیونکہ بےنمازکا فر ہےاورکافرکےنکاح میں مسلمہ نہیں رہ سکتی۔ توایسا ہوگیا جیسے کسی نےبےنکاحی عورت رکھی ہومگرچونکہ بےنمازکا کفرظنی ہے اس لئے اس کی اولاد کوولد الحرام کہنے میں ذرا احتیا ط چاہیے ۔ہاں خطرے کا مقام بڑا ہےکیونکہ کفرخواہ ظنی ہوبڑے خطرے والی شی ہے کہ کہیں ایسے مرد عورت کا تعلق حرام ہوکراولاد بھی حرام کی نہ ہوجائے خدا اس سے بچائے اوربے نمازوں کونمازپڑھنےکی توفیق دے۔تاکہ ان کی اولاد ولدالحرام کےخطرے میں نہ پڑے۔آمین

وباللہ التوفیق

قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل

جلد 01 

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ