سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(373) اپنی بیوی کو اس شرط پر طلاق دینا کہ بکر کے ساتھ نکاح نہ کرے

  • 6926
  • تاریخ اشاعت : 2013-09-27
  • مشاہدات : 689

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
زید نے اپنی بیوی کو اس شرط پر طلاق دی کہ بکر کے ساتھ نکاح نہ کرے۔ کیا عورت مذکورہ اس شرط کی پابند ہے۔؟ اگر وہ بعد عدت بکر سے نکاح کرلے تو کیا یہ نکاح ناجائز ہوگا؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

زید نے اپنی بیوی کو اس شرط پر طلاق دی کہ بکر کے ساتھ نکاح نہ کرے۔ کیا عورت مذکورہ اس شرط کی پابند ہے۔؟ اگر وہ بعد عدت بکر سے نکاح کرلے تو کیا یہ نکاح ناجائز ہوگا؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

عدت گزارنے کے بعد عورت کو اختیار ہے کہ کسی سے نکاح کرلے۔ طلاق میں اس کو کچھ دخل نہیں۔ اس لئے بوقت طلاق ایسی شرط لگانا حدیث بریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ماتحت لغو ہے۔ اگر اس نے بکر سے نکاح کرلیا ہے۔ تو یہ نکاح جائز ہے۔ اگر عورت نے اس شرط کو منظور کرلیا تھا تو وعدہ خلافی کے باعث گناہ گار ہوگی۔  (اہلحدیث 24دسمبر 1937ء)

 

فتاویٰ ثنائیہ

جلد 2 ص 317

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ