سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(361) اپنی بیوی کا دودھ پینا حرام ہے؟

  • 6914
  • تاریخ اشاعت : 2013-09-27
  • مشاہدات : 5762

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کسی شخص کو اپنی بیوی کا دودھ پینا شرعا حرام ہے۔ یا حلال بینوا توجروا عند الجلیل زید کہتا ہے کہ اپنی بیوی کا دودھ پینا جائز ہے۔ اور دودھ پینے سے بیوی حرام نہیں ہوتی کیونکہ دودھ مطلقا حرام نہیں۔ اگر بڑے آدمی کو دودھ حرام ہوتا تو رسول اللہ ﷺمولیٰ بنت سہیل رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوہرگز بعد بلوغ کے دودھ پینے کی رخصت نہ دیتے۔ اس سے معلوم ہوا کہ بڑے ہوکر دودھ پینے سے رضعیہ نہیں ہوتی۔ دودھ پینے میں کوئی حرج نہیں۔ حدیث شریف میں ہے۔

عن عروة ابي ازواج النبي صلي الله عليه وسلم ان يدخل علهين بذالك المرضعه احد من الناس يريد رضاعة الكبير  (نسائي )  

   اس سے حدیث سے ثابت ہوتا ہے کہ بڑا ہوکر دودھ پی سکتا ہے۔

وعن ام سلمة رضٰ الله تعاليٰ عنه قالت قال رسول الله صلي الله عليه وسلم لا يحرم من الرضعه الا ما فتق ال معائر كان قبل الفطام


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

مسئلہ ھذا کے دو حصے ہوتے ہیں۔ ایک تو بڑی عمر والے پریشر زن حرام ہے یا حلال ؟ دوسرا حصہ یہ ہے کہ پینے سے وودھ دینے والی عورت اور اس کی اولاد اس پر حرام ہیں یا نہیں؟  جوحدیث سوال میں نقل کی گئی ہے۔ اس س شیرزن کی حلت بالغ کے حق میں ثابت ہوتی ہے۔ مگر اس حدیث رضاع بالغ بھی ایک گروہ کے نزدیک ثابت ہوتا ہے۔ جس گروہ کی سر کردہ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ہیں۔ گوجمہور علماء اس کے مخالف ہیں ۔ حافظ ابن القیم رحمۃ اللہ علیہ  نے زادالمعاد وغیرہ میں اا س مسئلہ پر طویل بحث کی ہے۔ الخ (اہلحدیث امرتسر ص 7 25 اپریل 1924ء)

شرفیہ

زید کا قول باطل ہے صحیح قول جمہور علماء اسلام کا ہے۔ توجیسا یہ کہ راحج قول نسخ کا ہے قرائن نسخ پائے جاتے ہیں۔ کہ واقعہ سہلہ بنت سہیل اوائل ہجرت کا ہے یہ بھی صحیح ہے کہ نسخ کی نص نہیں۔ مگر ایلہ قویہ صحیحہ کثیرہ مفصلہ ہیں اور واقعہ سہلہ مجمل لہذا کثیرہ راحج وقاضی ہیں بالعکس نہیں ہوسکتا دوم یہ کہ واقعہ سہلہ مخصوصہ ہے ۔ اور ان دو کا مال ایک ہی ہے۔ کہ اب واقعہ سہلہ پر عمل جائز نہیں پس ثابت ہوا کہ کبیرہ کوشرزن جائز نہیں حرام ہے۔ اورآیت

وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ ۖ لِمَنْ أَرَادَ أَن يُتِمَّ الرَّضَاعَةَ   (پ2 ع 14)  رضاع کی حد ہے۔ اور حدود کی بنا پر عدم تجاوز پر ہے۔ وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّـهِ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ ۔   (پ2 ع 13) ثابت ہوا کہ تجاوز حد ظلم ہے اور ظلم حرام ہے۔ اگر تجاوز حدود جائز ہو تو پھر حدود کا فائدہ ہی کیا کچھ بھی نہیں۔ معاذ اللہ کلام الٰہی اس سے پاک ہے اور یہ قول کے جیسے قول صدیقہ حجت نہیں۔ ایسے ہی قول اذواج النبی ﷺ بھی حجت نہیں ہے۔ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے سوا مگر ازواج النبی ﷺ کے دلائل مقضہ قویہ صحیحہ کثیرہ حجت ہیں۔ نہ کہ محض قول اور قول صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پر کلام اللہ میں اختلاف لازم آتا ہے۔ جو جائز نہیں۔ اورقول ازواج دیگر پر ترجیح یا تطبیق ہے۔ جوجائز و صحیح ہے۔ شیخ الاسلام نے تخصییص کو پسند کیا ہے۔ مگر ساتھ ہی اس سے حرمت کے قائل نہیں صرف پردہ کے لئے کافی جانتے ہیں۔ میں کہتا ہوں۔ کہ یہ بلادلیل ہے جب تخصیص تسلیم کی گئی تو پھر حرمت میں کیا قباحت کچھ بھی نہیں بہرحال اب واقعہ سہلہ پر عمل نہیں۔ اور شبر زن مرد کبیر کو جائز نہیں حرام ہے۔ یذا واللہ اعلم۔  (ابو سعید شرف الدین دہلوی)

 

فتاویٰ ثنائیہ

جلد 2 ص 311

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ