سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(328) حج تمتع کا مفہوم

  • 6881
  • تاریخ اشاعت : 2013-09-16
  • مشاہدات : 642

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک بندہ حج تمتع کرنا چاہتا ہے۔ اس نے شوال کے مہینے میں حج تمتع کی نیت سے عمرہ کیا تا کہ اس کو حج کا عمرہ نہ کرنا پڑے۔ جبکہ وہ بندہ مکہ مکرمہ سے دوردراز اپنے شہر میں واپس آگیا ہے۔ کیا اس کا یہ عمرہ حج کے لیے کافی ہو گا، یااس کو دوبارہ عمرہ کرنا پڑے گا۔ قرآن و سنت کی روشنی میں راہنمائی فرمائیں۔ ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

حج تمتع کا مطلب ہے کہ آپ حج کے سفر میں ہی عمرہ کرنے کا بھی فائدہ اٹھا لیں۔ اگر کوئی شخص عمرہ کرنے کے بعد اپنے وطن واپس لوٹ آتا ہے تو گویا اس نے اپنے اس ایک سفرمیں دو چیزوں سے استفادہ نہیں کیا۔ لہذا اس کی پہلی نیت منقطع ہوگئی۔ اب اگر وہ حج پر جانا چاہتا ہے تو اسے اختیار ہے کہ وہ (مفرد،قران اور تمتع سمیت) حج کی جس قسم کو پسند کرتا ہے ،اسے ادا کر لے۔ پہلے سفر والا اس کا عمرہ ایک مستقل عمرہ اپنی جگہ قائم رہے گا۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ ثنائیہ

جلد 2

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ