سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(275) دین مہر پورا ملنے کی مستحق عورت (لڑکی ) ہے یا نہیں؟

  • 6828
  • تاریخ اشاعت : 2013-09-13
  • مشاہدات : 607

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک شخص نے اپنی بیوی کے ہوتے ہوئے دوسری شادی کرلی۔ پہلی بیوی کی طرف سے تقاضا ہوا کہ یا دونوں بیویوں کو یکساں آرام سے رکھنے کا اطمینان کر ادریا صفائی کردو۔ اور دین مہر ادا کردو۔ صرف پانچ چھ آدمی بیٹھے تھے لڑکی کا چچا بھی تھا۔ اور لڑکی کی ماں اور بھائی نابالغ موجود تھے۔ پانچ آدمیوں نے صرف بیس روپے دے کر طلاق نامہ لکھوادیا۔ ایک ہی مضمون کے دو کاغذ لکھے گئے لڑکی یا اس کے بھائی کی اجازت کے بغیر چچا نے دستخط کردیئے۔ اب لڑکی اور اس کے بھائی راضی نہیں ہیں۔ تو دین مہر پورا ملنے کی مستحق عورت (لڑکی ) ہے یا نہیں۔ ؟(محمد ابراہیم از جاچھا)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اس مجلس میں اعتراض کرنے کا لڑکی اور اسکے بھائی کو حق تھا۔ اب بعد فیصلہ کے نہیں واللہ اعلم۔ (29 اپریل 1932ء)

فتاویٰ  ثنائیہ

جلد 2 ص 193

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ