سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(248) کیا زنا سے نکاح باطل ہو جاتا ہے

  • 6801
  • تاریخ اشاعت : 2013-09-07
  • مشاہدات : 1349

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اگر کسی شخص کو اسکی شادی کی رات یا بعد میں کبھی پتہ چلے کہ جس لڑکی کے ساتھ اسکا نکاح ہوا ہے وہ کنواری باکرہ نہیں ہے اور اسکے تعلقات رہ چکے ہیں یا ایک دو بار زنا کی مرتکب ہو چکی ہے تو کیا اسلام کے اس اصول کے پیش نظر کے "بدکار مرد پاک باز عورتوں اور بدکار عورتیں پاک باز مرد کے لیے حرام ہیں" ان کا نکاح باطل ہو جائے گا؟ مرد کے لیے اس صورت میں کیا حکم ہے۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

انسان کو دوسروں کے بارے میں ہمیشہ حسن ظن رکھنا چاہئے،پردہ بکارت زنا کے علاوہ بھی متعدد امور سے زائل ہو جاتا ہے ،مثلا زیادہ وزن اٹھانے سے ،لمبی چھلانگ لگانے سے وغیرہ

اور اگر واقعی یہ ثابت ہو بھی جائے کہ اس لڑکی نے زنا جیسے جرم شنیع کا ارتکاب کیا ہے تو اس سے نکاح باطل نہیں ہوتا ۔کیونکہ اصول یہی ہے کہ حرام عمل سے کوئی حلال کام حرام نہیں ہوتا ہے۔

نبی کریم نے فرمایا:

«لا يحرم الحرام الحلال»
سنن ابن ماجه » كتاب النكاح » باب لا يحرم الحرام الحلال

حرام کام کسی حلال کو حرام نہیں کرتا

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

فتاویٰ  ثنائیہ

جلد 2 

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ