سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(188) ملتس ہوں کہ سلام کرنا کس کس جگہ اور کس کس آدمی کو منع ہے؟

  • 6741
  • تاریخ اشاعت : 2013-09-05
  • مشاہدات : 532

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

زید کسی دوسرے کا خط لکھا رہا تھا۔  بکر آکر خاموش کھڑا رہا۔  زید نے کہا کہ بھائی سلام کلام کچھ بھی نہیں۔ چور کی طرح کیوں کھڑے رہے۔  بکر نے کہا کہ جب کوئی آدمی کسی کام میں مشغول ہو سلام کرنا منع ہے۔ زید نے کہا اس کی دلیل لائو۔  بکر نے کہا تم خود تحقیق کرو۔ پھر اسی روز زید سوتا تھا۔ بکر نے آکرسلام کیا۔ جس سے زید کی آنکھ کھل گئی۔ زید نے کہا کہ اس طرح جگانا منع ہے۔ تم نے مجھے نیند میں کیوں جگایا۔ بکر نے کہا میں نے نہیں جگایا۔ میرے ساتھ والے نے  جگایا۔  لہذا ملتس ہوں کہ سلام کرنا کس کس جگہ اور کس کس  آدمی کو منع ہے۔ ؟ (عبد اللہ از بمبئی 19جنوری 1918ء)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

کام کرتے کسی کو سلام کرنا منع نہیں۔ بلکہ نماز میں بھی سلام علیک کرنا جائز ہے  ہاں ایسا بھی نہ کرے کہ کوئی شخص سوتا ہو۔ تو بلند آواز سے اس کو اٹھا دے۔ جس سے اس کو  تکلیف ہو۔  حدیث میں آیا ہے کہ آپﷺ نے رات کے وقت بلند آواز  میں قرآن پڑھنے سے منع فرمادیا تھا۔ اس طرح سلام کو سمجھناچاہیے۔ شریعت کا کوئی کام ایذا پر مبنی نہیں۔ ہرمسلمان کو سلام علیک کہنے کا حکم ہے۔ (8 فروری 18ء)

    ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ ثنائیہ امرتسری

جلد 2 ص 145

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ