سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(149) اپنے مسلمان بھائی کی غیبت کرنی منع ہے یا غیر مسلم کی بھی الخ

  • 6702
  • تاریخ اشاعت : 2013-09-02
  • مشاہدات : 687

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اپنے مسلمان بھائی کی غیبت کرنی منع ہے یا غیر مسلم کی بھی الخ


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

غیبت ایک اخلاقی جرم ہے۔ کیونکہ یہ ایک کمینی حرکت ہے۔ اس کا فاعل بذدل ہے۔  کے سامنے اظہار نہیں کرتا  پیچھے عیب جوئی کرتا ہے۔ اس شرح میں اس کی حرمت عام مومن وکافر کوشامل ہے۔

أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَن يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِهْتُمُوهُ ۚ

اسی عام اصول کی طرف رہ نما ہے۔ مگر بعض افعال پر عامۃ الناس کو متنبہ کرنا ہوتا ہے۔ یا بعض دفعہ کسی شرعی غرض سے کسی شخص کی نسبت صحیح رائے قائم کرنی مقصود ہوتی ہے۔ جیسے محدثین کورایوں کی عیب جوئی اور اظہار میں حدیثوں کی تنقید مطلوب تھی پہلی صورت کو قرآن کی آیت نے مستثنیٰ کردیا۔ ۔

لَّا يُحِبُّ اللَّـهُ الْجَهْرَ بِالسُّوءِ مِنَ الْقَوْلِ إِلَّا مَن ظُلِمَ ۚ وَكَانَ اللَّـهُ سَمِيعًا عَلِيمًا

 مظلوم کو ظالم کے حق میں اظہار ظلم کی اجازت دینی بھی اسی غرض سے ہے۔ کہ لوگوں کو معلوم ہوجائے۔ کہ فلاں فلاںشخص ظالم ہیں تاکہ اس کے دھوکہ سے بچیں قانون مروجہ کی دفعہ 500 تعزیرات  ہند جو کسی شخص کی ہتک عزت کے واسطے ہے۔ اس میں چند مستثنیات ہیں۔ جن پر فاعل پرجرم ثابت نہیں ہوتا۔ بعینہ وہی صورت منیب ہے۔  اما نووی رحمۃ اللہ علیہ  کا قول (کہ اس کا کچھ مواخذہ نہ ہوگا) حدیث کے مخالف نہیں۔ انما الاعمال بالنیات۔ (23  ربیع الثانی 38ہجری)

 

    ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ ثنائیہ امرتسری

جلد 2 ص 117

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ