سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(134) حنفی ولا لدالین اور اہل حدیث ولا الضالین پڑھتے ہیں؟

  • 6687
  • تاریخ اشاعت : 2013-09-02
  • مشاہدات : 3465

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

حنفی ولا لدالین اور اہل حدیث ولا الضالین پڑھتے ہیں۔  کس کا پڑھنا صحیح ہے؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ضاد کو مشابہ ظاہر پڑھنے کا حکم کتابوں میں لکھا ہے۔  مشابہ دال پڑھنے کا نہیں مشابہ دال پڑھنے سے معنی الٹ جاتے ہیں۔  یعنی رائ دکھانے والے اور اصل میں اس کے معنی ہیں گمراہ۔ (21 اپریل 1916ء)

استفتاء بابت تحقیق حرف ضاد۔

حضرات علماء کرام کیا فرماتےہیں اس بارے میں کہ عام طور سے بعض جگہ ضاد کو مشابہ بمخرج دال پڑھتے ہیں۔ جیسا کہ رضی اللہ کوردی اللہ ۔ ولاالضالین کو ولاالدالین اور عید الاضحیٰ کو عید الدحیٰ وغیرہ۔ مگر اکثر مقامات پرضاد کو ضاد ہی پڑھتے ہیں۔  مثلا ماہ رمضان کو رمدان۔ حضرت کو حدرت اور مرض کو مرد وغیرہ نہیں کہتے رضی اللہ عنہ کو ردی اللہ عنہ کہتےہیں۔  تو معنی بھی بدل جاتے ہیں رد کا معنی انکار کرنا۔ پھیرنا۔ منسوخی وغیر ہ کے ہیں۔ اگرچہ اس سے یہ معنی نہیں لیتے مگر ظاہر میں ردی اللہ عنہ کہنا کریہیہ ہے۔

الجواب۔ یہ صحیح ہے کہ حرف ضاد کودال کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ اور یہ کہ وہ ظا کے ساتھ اپنی اکثر صفات میں مشابہ ہے۔ مگر ظا سے بھی وہ جداگانہ حقیقت رکھتا ہے پس جو شخص اس کو خالی ظا پڑھے۔ وہ اور جو شخص خالی دال پڑھے وہ دونوں تبدیل حرف کے مرتکب ہیں۔  اور جو شخص ضاد کے ادا کرنے کے قصد سے پڑھے۔  اور اس کی آواز دال کی پُر کی نکلے۔ یا ظا کے مشابہت نکلے ان دونوں کی نماز صحیح ہوگی۔ اور  ظا کے مشابہ پڑھنے والا اقرب الی الصحہ ہوگا۔ اور خالص دال کی آواز سے ادا کرنا غلط ہے۔ دال پر جس آواز کو ہم نے کہا ہے۔  وہ ضاد کی بگڑی ہوئی آواز ہے۔ کیونکہ دال میں فی حد ذاتہ تفخیم نہیں ہوتی۔ (محمد کفایت اللہ عفی عنہ دہلی)

الجواب۔ یہ مسئلہ فن تجوید کے اعتبار سے تو بہت اہم ہے۔  لیکن فساد صلواۃ یا عدم فساد صلواۃ کے لہاظ سے اس قدر اہم نہیں ہے۔  جس قدر کے آجکل لے لوگوں نے سمجھ رکھا ہے۔ پس نماز کے ہونے نہ ہونے کو اس مسئلہ پر موقوف کرنا تجوید کے مسئلہ کو فقہی بحث میں لاڈالنے کے مترادف ہے۔ اس لئے اتنا ہی سمجھ لینا کافی ہے۔ کہ ضاد اصل حقیقت کے اعتبار سے تو آواز ظا کے مشابہ ہے۔ دال کے مشابہ نہیں۔ لیکن جو شخص سعی اور کوشش کے باوجود اس حرف کو صحیح ادا کرنے  پر قادر نہ ہوسکے۔ نماز اس کی  بہرحال ہوجائےگی۔ فقط واللہ اعلم۔ (بندہ محمد یوسف عفی عنہ مدرسہ امینیہ دہلی)

(الجمیعۃ دہلی 16 مارچ سنہ رواں ۔ اہل حدیث 22 محرم 1357ہجری)

مذید تشریح

از قلم حضرت مولانا عبد الجلیل صاحب رحمانی ششہنیاں ضلع بستی۔

قراء تجوید  اور ماہرین تعریف نے حرف ''ض''کو مشتبہ الصوت بالظاء یا مشتبہ  الصوت بالدال ہونے کے متعلق جو تحقیق انیق ارقام فرمائی ہے۔  اس کا ایک ملخص ہم ناظرین کی دلچسپی کےلئے زیل میں درج کرتے ہیں۔ ضرورت ہے کہ  لقمق وامعان سے دیکھ کر مذہب منصور کے حق میں تعصب سے الگ ہوکر صحیح فیصلہ کیاجائے۔

مخارج حروف ثلاثہ

سب سے پہلے ہم ض۔ ظ۔ د۔ ان حروف  ثلاثہ کے مخارج کو بطریق لف ونشر الگ الگ بیان کرتےہیں۔   اس  کے بعد ان کی باہمی مشابہت ومناسبت اور اتحاد تلفظ وتقارب فی السمع پر روشنی ڈالیں گے۔ ان شاء اللہ۔

حرف ضاد کے متعلق علامہ قاضی ناصر الدین البیضاوی اپنی تفسیر میں  تحریر فرماتے ہیں۔

والضاد من اصل حافة للسان وما يليها من الاضراس

یعنی ضاد کا مخرج زبان کا پورا کنارہ ایئں یا بایئں طرف کی داڑھ ہے۔  نیز رضی وشافیہ او کتب تجوید میں بھی مرقوم ہے۔

الضاد المعجمة من اول حافة اللسان وما يليه من الاضراس من الجانب الايسر وقيل من الايمن كذا في التقان

رئیس المتکلمین علامہ فخر الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ  نے بھی اپنی  تفسیر میں یہی لکھا ہے۔

 مخرج الضاد من  حافة للسان وما يليها من الاضراس

علامہ جار اللہ زمخشری رحمۃ اللہ علیہ  بھی تفسیر کشاف میں یہی لکھتے ہیں۔

مخرج الضاد من اصل حافة للسان وما يليها من الاضراس

 اور حرف ظ کے مخرج کے متعلق اتقان میں ہے۔ یعنی صرف ظ کا مخرج اوپر کے دونوں دانتوں ثنایا۔ علیا۔ اور زبان کی نوک ہے۔ اور صرف د کے متعلق اسی اتقان میں یوں ہے۔

وللطاء والدال والتاء من طرفه واصول الثناء العليا مصعد الي العنك الخ

 یعنی دال کا مخرج زبان کی نوک اور اوپر کے دونوں دانتوں ثنایا علیا کی جڑ ہے۔

صفات حروف ثلاثہ

ان حروف ثلاثہ کے مخارج کو جان لینے کے بعد ان کے اوصاف وصفات کی تشریح کیجاتی ہے۔ تاکہ ان کی باہمی مناسبت ومشابہت کا مسئلہ آئمدہ واضح ہوجائے۔ حرف ض کی صفات کے تعلق کتب تجوید میں لکھا ہے۔

الرخاوة والجهر والاستعلاء والاطباق والتفخيم والاستطالة والا صمات من صفات الضاد المعجمة والتضشي عند البعض اليضا كذا  في جهد المقل

یعنی رخاوت جہر استعلاء اطباق  تفخیم استطالت اصمات اور عند لبعض تفشی بھی ہے ۔ نیز بعض کتب تجوید میں ض کی صفات میں سے سکون کو بھی شمار کیا گیا ہے۔ اور حروف ظا کی صفات کے متعلق  علامہ محمد مرعشی لکھتے ہیں۔

الاصمات والجهر الرخاوة والاستعلاء والاطباق  والتفخيم من صفات الظاء المعجمة كذا في جهد المقل وشرحه وفي منهاج النشراسكون ايضا

یعنی اصمات۔ جہر ۔ رخاوت۔  استعلاء۔ اطباق۔ تفخیم۔ سکون حرف ظاء کی صفتیں ہیں نیز اسی کتاب میں صفات دال کے متعلق یوں مرقوم ہے۔

القلقلة والشدة والا صمات والانفتاح والتوفيق والاستعسفال من صفات الدال المهولة

یعنی ۔ قلقلہ۔ شدت۔ اصمات۔ انفتاح۔ ترفیق۔ استدظال۔ دال کی صفات ہیں۔

مشابہت حروف ثلاثہ

 اوصاف وصفات حروف ثلاثہ بیان کرنے کے بعد حرف ض وظ ۔  کے تشابہہ واشتراک فی الصفات کے متعلق ہم ذیل میں علماء تجوید کی تحقیق نقل کرتے ہیں۔

الضاد والظاء اشتركاصفة جهر  اور خاوة واستعلاء والنفردت الضاد بالا ستطالهكذا في الاتقان

یعنی ض و بجز استطالۃ ک باقی تمام صفات میں متحد ہیں ۔ علامہ موصلی حنبلی نے شرح شاطبیہ میں لکھا ہے۔

 ا ن الضاد والظاء والذال متشابهة في السمع والضاد لا تفترق عن الظاء الاباختلاف  المخرج وزيادة الا ستطالة في الضاد لولا هما لكانت احداهما عين الاخري

یعنی ضاد وظائے وذال مشابہۃ الصوت  ہیں۔  اور ضاد وظائے کے اندر اگر مخرج حقیقی ار استطالۃ کا فرق نہ ہوتا۔ تو دونوں عین ہوتے۔  اسی مشابہت کو علامہ فخر الدین رازی رحمۃ اللہ علیہ  تفسیر کبیر میں یوں فرماتے ہیں۔

وبيان المشابهة من وجوه الاول انهما من حروف المجهورة والثاني انها من الحروف الرخاوة والثالث انها من الحروف المطبقة الخ

نیز علامہ محمد بن جزری لکھتےہیں۔

والناس يتفاوتون في النطق بالضاد فمنهم من يجوله ظاء لان الضاد يشارك الظاء في صفاتها كلها ويزيد علي الظاء بالاستطالة ولولا استطالة واختلاف المخرجين لكانت ظاءوهم اكثر الشاميين وبعض اهل المشرق

یعنی لوگ حرف ضاد کی ادایئگی میں مختلف ہیں۔  بعض لوگ ضاد کو ضائع پرھتے ہیں۔  کیونکہ اکثر صفات میں شریک ہے۔ اگر استعالت اور اختلاف مخرجین کا فرق نہ ہوتا تو ضاد وعین ظائے ہوجاتا۔ اکثر  شامیوں اور اہل شرق کا یہی مذہب ہے۔  قصیدہ جزیہ میں بھی اسی ہی مشابہت کی طرف اشارہ کیاگیا ہے۔

واضاد باستطالة ومخرج    ميزعين الظاء وكلها يجي

عبارات منقولہ بالا اور حروف ثلاثہ کی صفات سے کالشمس فی نصف النہار واضح ہوگیا۔ کہ حرف ضاد وظوئے دونوں آٹھ نو صفات میں متحد ہیں لیکن حرف ضاد ودال میں کوئی مناسبت ومشابہت نہیں بلکہ ان میں تبائن ہے۔ ان دونوں کے اوصاف پر غور کیجئے۔ ضاد میں رخاوت ہے۔  تو دال میں شدت ضاد ساکنہ ہے دال قلقلہ ہے۔ ضاد مطبقہ ہے۔ دال منفتحہ۔ ضاد مستعلیہ ہے۔ دال مستسفلہ ضاد میں تفخیم ہے۔ دال میں ترقیق ضاد مستطیلہ ہے دال آنی۔ ضاد میں تفشی ہے دال میں عدم  تفشی۔

اہل لسان اور فقہاء

 اس مشابہت وتضاد کے بیان  کرنے کے بعد اب ہم اہل لسان اور فقہاء کے اقوال نقل کرتے ہیں۔ تاکہ واضح ہوجائے کہ ضاد کو مشتبہ الصوت بالظاء پڑھنا چاہیے۔ یا بالدال مشہور ومعروف مورخ ابن خلکان اپنی تاریخ میں زیر ترجمہ ابن الاعرابی لغوی لکھتے ہیں۔

وكان (اي ابن الاعرابي)يقول جائز في كلام العرب ان بعاقبوا بين الضماد والظاء  فلا يخطي من يجعل هذه في موضع هذه وينشد

الي الله اشكومن خليل اوده             ثلاث خلال كلهالي غائض

بالضا ويقول هكذا سمعته من فصحاء العرب

یعنی ابن الاعرابی کہتے  تھے کہ کلام عرب میں ضاد کو ضوئے کی جگہ میں اور ضوئے کو ضاد کی جگہ میں پڑھنا چاہیے۔  جوشخص ایسا کرے خاطی نہ ہوگا۔  پھر اس شعر کو پڑھتے جس میں ظوئے کی جگہ ضاد پڑھنا فصحاء عرب سے ثابت ہوتا ہے۔ نیز علامہ محمد بن محمد جذری لکھتے ہیں۔

وحكي ابن جني في كتاب التنبيه وغايره ان من العرب من يجعل الضاد ظاء مطلقا في جميع كلامهم وهذا اقريب وفيه توسع للعامة كذا في التمهيد للجزري

 یعنی بعض اہل عرب ضاد کو مطلقا ظوے  ہی پڑھتے ہیں نیز علامہ جمال الدین   رحمۃ اللہ علیہ   فر ماتے ہیں۔ ابدال الضاد ظائ وھی لغۃ اکثر اھل العرب الخ  یعنی ضاد کو ضوے سے بدلنا اکثر اہل عرب کی لغت سے ثابت ہے۔ اسی مفہوم کی تایئد فقہاء کرام بھی فرماتے ہیں۔  فتاویٰ قاضی خان میں ہے۔

لو قراالضالين بالظاء اوالزال  لا تفسد صلوته ولو قرء بالدالين تفسد صلوة

اگر ضالین کو الظالین یا الذالین ظوئے اور ذال کے ساتھ پڑھے۔  تو نماز ہوجائےگی۔ اور اگر الدالین دال  کے ساتھ پڑھے تو نماز فاسد ہوجائےگی۔ تفصیل کےلئے بزازیہ  در مختار۔ ۔ عالمگیریہ۔ خلاصۃ الفتاویٰ۔ غنیۃ المنتملی۔ جزریہ۔ رسائل ارکان۔ وغیرہ کتب فقہ  حنفیہ نیز فتویٰ مولنا عبدالئی صاحب لکھنوی ملاحظہ فرمایئے۔

نتیجہ

ماسبق میں جو تقریر بطراز مقدمات تحریر کی گئی ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ حرف ضاد وظوئے اکثر اوصاف صفات میں متحد ہوئے۔ اور اہل عرب کے کلام سے ضاد کو ظوئے پڑحے۔ اور علماء تجوید کے کلام اور فقہائے عظام کے  فتاوے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ضآد کو مشتبہ الصوت بالظوئے پڑھ سکتے ہیں۔ اور ضاد وظوئے کے درمیان تفریق کرنے کے ہم مکلف نہیں۔ (کما قال الرازی) اس لئے الضالین کو اظالین پڑھنا جائز ہے2۔ چونکہ حرف ضاد اور دال میں من حیث الصفات اور بااعتبار مخرج تضاد اور تبائن ہے۔ اس لئے ضاد کو مشتبہ الصوت  بالدال نہیں پرھ سکتے۔ اوراگر کسی نے والضالین کو دالین  پڑھا۔ تو خود فقہائے حنفیہ کے اقوال کی رو سے اس کی نماز  فاسد ہوجائےگی۔ نیز اہل عرب کے کلام سے بھی ضاد کودال سے بدلنے کا ثبوت نہیں۔

 

    ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ ثنائیہ امرتسری

جلد 2 ص 99

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ