سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(132) کیا ہر وقت ملنے پرمصافحہ کرنا منع ہے؟

  • 6685
  • تاریخ اشاعت : 2024-02-27
  • مشاہدات : 2768

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

بکر کہتا ہے کہ جب دور سے آئے تو یعنی سفر سے آئے ہوئے کو مصافحہ کرنا چاہیے۔ لیکن ہر وقت ملنے پرمصافحہ کرنا منع ہے کیا یہ صحیح ہے۔ ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جب اور جس وقت سلام علیکم کہے اس وقت مصافحہ کرنا بھی جائز ہے۔  کیونکہ حدیث شریف میں ہے سلام کومصافحہ سے پورا کیا کرو۔ مصافحہ چونکہ بغرض اظہار محبت ہوتا ہے۔ اس لئے موقع شناسی بھی ضروری ہے۔ جس میں کسی فریق کا حرج یا تکلیف نہ ہو۔ (4ستمبر 1931ء)

تشریح

مہمان کو ر خصت کرتے وقت مصافحہ کرنا کیسا  ہے۔ بعض لوگ اس سے روکتے ہیں۔ (سائل عبد المبین منظر)

الجواب۔ جامع ترمذی ابواب الدعوات باب مایقول اذودع انسانا میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے حدیث ذیل وارد ہے۔

كان النبي صلي الله عليه وسلم اذاودع رجلا اخذ بيده فلا يدعها حتي يكون الرجل هو يدع يد الننبي صلي الله عليه وسلم

اس  حدیث سے رخصت ہوتے وقت ہاتھ پکڑنا یعنی مصافحہ کرنا کھلا ثابت ہے۔ حکم (قول) نہ سہی۔ سنت (فعل) تو موجود ہے۔ اور ممانعت کسی روایت میں بھی نہیں آئی۔ پس جواز میں کیاکلام ہے۔ جو لوگ منع کرتے ہیں۔  محض بے دلیل اور غلو سے کام لیتے ہیں۔ واللہ اعلم۔ (علامہ ابو القاسم محمد خان سعید منزل بنارس سٹی 25شوال 64ہجری)(ارسال کردہ مولانا عبد المبین منظر صاحب ناظم مدرسہ شمس العلوم سمرا ضلع بستی)

تشریح

بعد حمد وصلواۃ کے واضح ہوکہ مصافحہ کے بارے میں اگرچہ رواج تو ایسا ہی ہورہا ہے۔ کہااکثر آدمی دونوں ہاتھوں سے کرتے ہیں۔  اور اسی کو اچھا بھی سمجھتے ہیں۔ لیکن حدیثوں کی رو سے ایک ہی ہاتھ سے مصافحہ کرنا ثابت ہوتا ہے۔ اس لئے کہ جو حدیثیں مصافحے کے  بارے میں آئی ہیں۔ ان میں ید کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں ایک ہاتھ چنانچہ ترمذی صفھۃ 109 باب المصافحۃ میں حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے روایت ہے۔

قال رجل يا رسول الله الرجل منا يلقي اخاه اوصديق اينحني له قال لا قال فيلتز مه ويقبله قال لا قال فياخذ بيده  ويصا  فحه قال نعم

یعنی ’’ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ ﷺ ہم میں سے کوئی آدمی اپنے بھائی سے ملے یا دوست سے ملے تو کیا اس کے واسطے جھک جایا کرے۔ آپﷺنے فرمایا نہیں۔ اس نے کہا کیا معانقہ کرے۔  فرمایا کہ نہیں۔  اس نے کہا کیا اس کا ہاتھ پکڑ کر مصافحہ کیاکرے۔ فرمایا کہ ہاں‘‘ اور  اس حدیث کو ترمذی نے حسن کہا ہے۔ اورمشکواۃ صفھہ 510  باب فی اخلاقہ وشمائلہ میں حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے۔

ان رسول الله صلي الله عليه وسلم كان اذا صانع الرجل لاينزث يده من يده حتي يكون هوالذي  ينزع يده

یعنی ’’آپﷺ ایسے وسیع الحلم اور عظیم الخلق تھے۔ کہ جب کسی شخص سے مصافحہ کرتے تو جب تک وہی شخص اپنا ہاتھ آپ کے ہاتھ مبارک سے جدا نہ کرتب تک  آپ ﷺاپنا ہاتھ مبارک جد ا نہیں فرماتے۔‘‘ اور مشکواۃ کتاب الدعوات صفحہ 201 میں حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی روایت سے آیا ہے۔

كان النبي صلي الله عليه وسلم اذا ودع رجلا اخذ بيده فلا يدعها حتي يكون الرجل هو يدع يد واخر علمك من ابي داود وغيره

یعنی آپ ﷺ جب کسی شخص کو رخصت کرتے۔ تو اس کا ہاتھ پکڑتے پھر نہ چھوڑتے اس کو  جب تک کہ وہ شخص خود ہی آپ کے مبارک ہاتھ کو نہ چھوڑتا اور آپ اس وقت یعنی رخصت کرتےوقت یہ د عا پڑھا کرتے تھے۔ جس کا ترجمہ یوں ہے کہ تیرے دین اور امانت کو اور کاموں کے انجام کواللہ تعالیٰ کے سپرد کرتا ہوں۔ اور مشکواۃ باب المصافحہ میں ابودائود کے حوالہ سے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا  کی روایت سے آیا ہے۔ کہ آپ ﷺ جب حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا  کے پاس تشریف لے جاتے۔ تو وہ آپ کا ہاتھ پکڑتیں اور اپنی جگہ بٹھلاتیں۔ اور جب حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا  آپ ﷺ کے پاس آتیں تو آپ ﷺ ان کا ہاتھ پکڑتے اور اپنی جگہ بٹھلاتے۔ ان حدیثوں سے  کوئی مسئلے معلوم ہوئے۔ ایک یہ کہ ملنے والے کی تعظیم کے واسطے جھک جانا درست نہیں ہے۔ اور معانقہ کی بابت حدیث اول میں ممانعت ہے۔ اور زید بن حارثہرضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی روایت سے جواز  معلوم ہوتا ہے  جب کہ ترمذی جلد دوم صفحہ 109 میں ہے۔ مگر ترمذی والی  روایت میں چونکہ یہی مذکور ہے۔ کہ زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس وقت سفرسے آئے تھے۔ لہذا دونوں روایتوں کے جمع کرنے سے یہ مسئلہ نکلا کہ جب سفر سے آوے تب معانقہ بھی درست ہے۔ اور ہروقت کی ملاقات  میں معانقہ منع ہے۔ صرف مصافحہ کرنا سنت ہے۔  اور ایک مسئلہ یہ معلوم ہوا کہ جس طرح آتے وقت مصافحہ سنت ہے۔ اسی طرح رخصت ہوتےوقت بھی سنت ہے۔ حالانکہ اکثر لوگ یوں کہتے ہیں۔ کہ رخصت ہوتےوقت کا مصافحہ درست نہیں ہے۔ پس یاد رکھیں کہ درست اور سنت ہے۔  اور ایک مسئلہ یہ معلوم ہوا کہ ملنے والے اگر محرم ہو ں تو عورت مرد کو بھی باہم مصافحہ کرنادرست ہے۔ جیسے باپ بیٹی یا بھائی بہن یا خاوند زوجہ وغیرہم مگر مولوی یاد پیرزادہ ہے چونکہ نا محرم عورتوں سے بھی مصافحہ کیا کرتے ہیں اس لئے اس موقع پر یہ لکھنا ضروری ہے کہ کسی مرد کو نامحرم عورت سے مصافحہ کرنا درست نہیں ہے کیونکہ ابن ماجہ صفحہ 212 باب بیعۃ النساء میں امیمہ بنت رقیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا  سے روایت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا انی لا اصافح النساء یعنی میں عورتوں سے مصافحہ نہیں کرتا ہوں۔  اور ابن ماجہ کے اسی باب میں حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا  سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں۔  کہ قسم ہے اللہ کی آپﷺ کے ہاتھ مبارک نے کبھی کسی عورت کے ہاتھ کو نہیں چھوا اگر کوئی صاحب یوں کہیں کہ یہ بیعت کے بارے میں ہے تو میں یہ جواب دوں گا۔ کہ آپﷺ کالفظ انی لا اصافح النساء عام ہے۔ اس عموم میں سے محرم عورتیں خاص ہوگئیں بوجہ حدیث مذکورہ بالا کے جس میں حضرت بی بی فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا  سے مصافحہ کرنے کا بیان ہے۔  باقی سب عورتیں ہر صورت سے اس عموم نہی میں داخل رہیں۔ اور یہ  ایک مسئلہ معلوم ہوا کہ ہر ایک ملاقات کے وقت مصافحہ کرنا  سنت ہے۔ کچھ یہ نہیں ہے۔ کہ چندروز کے بعدملاقات ہو تب ہی سنت ہو۔ اور ایک یہ مسئلہ معلوم ہوا کہ مصافحہ میں سنت طریقہ یہی ہے۔  کہ ایک ہاتھ سے کیا جاوے۔  دو ہاتھ سے مصافحہ کرناسنت نہیں ہے۔ دونوں ہاتھ کا بیان تو اس طرح ہے کہ جس طرح تمیم والی حدیثوں میں ہوا ہے۔  چنانچہ مشکواۃ صفحہ 46 باب التمیم میں بخاری کی روایت سےآیا ہے۔

فضرب النبي صلي الله عليه وسلم بكفيه الارض ونفخ  فيهما ثم مسح بهما وجهه وكفيه

یعنی نبی کریمﷺ نے اپنی دونوں ہتھیلیاں زمین پر ماریں۔ اور دونوں میں پھونک ماری۔ پھر ان دونوں کو اپنے چہرے مبارک او ردونوں ہاتھوں پر ملا اور مسلم کا لفظ اسی روایت میں یوں ہے۔ انما يكفيك ان تضرب بيد يك الارض  یعنی فرمایا کہ تجھ کو کفایت کرتا تھا کہ  مارتا تو اپنے دونوں ہاتھ زمین پر پس مصافحہ کی حدیثوں میں ید کالفظ اور تیمم  کی حدیث میں یدین اور کفین کا لفظ آنا اس امر کی روشن دلیل ہے کہ مصافحہ ایک ہی ہاتھ سے کرنا سنت ہے۔ اور حضرت عبد اللہ ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ  سے جو روایت آئی ہے۔ کہ نبی کریمﷺ نے مجھ کو التحیات کا پڑھنا سکھایا اسوقت میرا ہاتھ آپ کے دونوں ہاتھوں کے بیچ میں تھا۔ اس سے بعض علماء د ونوں ہاتھ سے  مصافحہ کرنے کی سنت نکلاتے ہیں لیکن انصاف کی   رو سے یہ حدیث مصافحہ کےبارے میں نہیں اور ہوسکتی بھی نہیں ہے  تو نہیں اس لئے کہ اس میں مصافحہ کا زکر نہیں بلکہ تعلیم اور تذکیر کا بیان ہے۔ اور یہ عام دستور ہے۔ اور سب جانتے ہیں کہ جب کوئی ضروری بات یا کام کسی کو سکھانا یا سمجھانا ہوتا ہے۔  اور اس کے حال پر مہربانی وشفقت کی نظرہوتی ہے۔ تو  اس کے سر پر یا کاندھے پر ہاتھ رکھ کر یا اس کا ہاتھ پکڑ کر سکھایا سمجھایا کرتے ہیں۔ اور ہوسکتی نہیں اسی لئے کہ مصافحہ کے صرف تین موقع ہیں۔ یا آتے وقت یا رخصت ہوتے وقت یا بیعت کے وقت اور عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی روایت میں  تینوں موقعے نہیں۔ پھر اس کو مصافحہ کے مسئلہ سے کیا علاقہ باقی رہا بعض علماء کا قول یا فعل سو وہ دلیل شرعی نہیں ہے۔ خصوصا جب کہ احادیث مرفوعہ صحیحہ کے  مخالف واقع ہو تو پھر اس سے کیا کام نکل سکتا ہے۔ اس کی اتنی  رعایت کافی ہے کہ اگر کوئی شخص دونوں ہاتھ سے مصافحہ کرے تو اس پر چنداں گرفت نہ کی جائےل۔ مگر اس کو سنت کہنا بالکل غلط ہے۔ کیونکہ سنت ہونے کا شرف تو ایک ہاتھ ہی کے مصافحہ کے واسطے حاصل ہے۔  ایک ہاتھ کے مصافحہ کو نصاریٰ طریقہ اگر ناواقفیت کی وجہ سے ہے۔  تو عمر کو سمجھ لینا چاہیے کہ یہود ونصاریٰ کی یاد دوسرے کافروں کی مشابہت ایسے کام میں ہوا کرتی ہے۔ جس کوشریعت اسلام نے ثابت یا مقرر نہیں رکھا۔ مسلمان لوگ صرف کفار کی  ریس سے اس  کو کرنے لگیں۔ اور جو کام شریعت میں ثابت ہوچکا ہے۔  وہ اگر یہود ونصاریٰ یا دوسرے کافروں میں بھی پایا جاوے۔ تو اس کام پر ان کی مشابہت کا اطلاق صحیح نہیں ہے۔  اور وہ واجب الترک بھی نہیں ہے۔  مثلاً سپاہ گری کا فن سیکھنااور گھوڑے کی سواری میں مشتاقی پیدا کرنا آجکل نصاریٰ میں بہت کثرت سے رائج ہے۔ مگر شریعت اسلام میں بھی چونکہ یہ امر مقرر اور مامور بہ ہے۔  لہذا اس کو نصاریٰ کی مشابہت کے تحت میں لاکر واجب الترک  ہرگز نہیں کہہ سکتے۔ اس قاعدہ کو یاد رکھیں اور ہر موقع پر اس کے موافق جانچ کرکے حکم لگایا کریں گے ان شاء اللہ تعالیٰ غلطی نہ ہوگی۔ اور اگر عمرو مذکور نے جان بوجھ کر ایسا لفظ کہا ہے تو سنت کی صریح توہین ہے۔ اورسنت کی توہیں کفر ہے۔ ایسی باتوں سے مسلمانوں کو ڈرنا ار بچنا چاہیے۔ (فقط  حررہ العاجز حمید اللہ ساکن سروہ ضلع میرٹھ۔ سید محمد نزیر حسین)

ہوالموفق

جواب صحیح ہے۔  بے شک مصافحہ کا  طریقہ مسنون یہی ہے۔  کہ ایک ہاتھ سے یعنی داہنے ہاتھ سے کیاجائے۔  اور دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کرنا کسی صریح حدیث سے ثابت نہیں ہے۔  اس مسئلہ کی  تحقیق میں رسالہ المقالۃ الحسنیٰ فی سنیۃ المصافحہ بالیدالیمنیٰ ایک جامع اور مفید رسالہ چھپ کرشائع ہوا ہے۔  جس شخص کو اس مسئلے کی تحقیق کا کامل طور پر مع مالیا وما علیھا کے منظور ہوا اسے چاہیے کہ اس رسالہ کو ضرور مطالعہ کرے۔ ہاں اس جواب میں جو یہ لکھا گیا ہے کہ''اور ایک مسئلہ معلوم ہوا کہ جس طرح آتے وقت مصافحہ سنت ہے۔  اسی طرح ر خصت ہوتے ہوئے بھی سنت ہے ۔  حالانکہ اکثر لوگ یہی کہتے ہیں  کہ ر خصت ہوتے ہوئے کا مصافحہ درست نہیں۔ پس یاد رکھیں کہ درست اور سنت ہے۔ سو مجیب رحمۃ اللہ علیہ  کا یہ فرمانا ٹھیک نہیں ہے۔  اس واسطے کے رخصت ہوتے ہوئے کے مصافحے کے درست اور سنت ہونے کو مجیب نے حدیث

 كان البي صلي الله عليه وسلم اذا ودع رجلا اخذ بيده فلا يدعها الخ

س ثابت کیا ہے کہ حالانکہ اس حدیث سے صرف مسافر کے رخصت کرتے وقت مصافحہ کا مسنون ہونا ثابت ہوتا ہے۔ اور غیر مسافر کے رخصت ہوتے وقت کا مصافحہ اس حدیث سے ثابت نہیں ہوتا۔ کیونکہ اس حدیث میں تو دیع سے مراد مسافر کو رخصت کرنا ہے۔ اور مطلب یہ ہے  کہ رسول اللہ ﷺ جب  کسی شخص سفر میں جانے والے کو رخصت  فرماتے تو اس کا ہاتھ  پکڑ لیتے اور یہ دعا  فرماتے۔

استودع الله دينك وامانتك واخر عملك

دیکھو شروع حدیث و کتب لغت۔  ہاں جامع ترمذی میں حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  کی حدیث میں جو یہ جملہ مروی ہے۔ وتمام تحياتكم بينكم المصافحة یعنی تم لوگوں کے سلام کی تمامی مصافحہ کرنا ہے۔ یعنی جب ہی سلام پورا ہوگا اور کامل ہوگا۔  کہ سلام کے ساتھ مصافحہ بھی کرو۔ شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ  اس جملے کے ترجمے  میں لکھتے ہیں۔

''تمام وکمال ہائے وسلام شما کے میان یکدیگرمی کنید مصافحہ است  یعنی چون وسلام کنید مصافحہ نیز بکنید تا سلام تمام شود وکامل گردو''

سو حدیث کے اس جملے سے رخصت ہوتے وقت کا مصافحۃ مسافر اور غیر مسافر کےلئے البتہ ثابت ہوتا ہے۔ کیونکہ رخصت ہوتے وقت مسافر  اور غیر مسافر ہر ایک کےلئے سلام کرنا بلاشبہ مسنون ہے۔ اور سلام کی تمامی مصافحہ کرنا ہے۔  تو نتیجہ یہ نکلا کہ رخصت ہوتے وقت مسافر اور غیر مسافر ہر ایک کےلئے مصافحہ کرنا مسنون ہے۔ لیکن جامع ترمذی کی یہ حدیث ضعیف وناقابل احتجاج ہے۔  ترمذی نے اس حدیث کے روایت کرنے کے بعد لکھا ہے۔ ھذا اسناد لیس بالقوی۔ یعنی اس حدیث کی سند قوی نہیں ہے۔ میں کہتا ہوں کہ اس حدیث کی سند میں ایک راوی علی بن یزید ہے۔ اس کی نسبت ترمذی رحمۃ اللہ علیہ  سے نقل کیا ہے۔ کہ یہ ضعیف ہے۔  اور خلاصہ میں اس کی نسبت سے لکھا ہے۔  قال البخاری منکر الحدیث یعنی امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ  نے کہا کہ علی بن یزید منکر الحدیث ہے۔ اور امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ  جس رواوی کی نسبت منکر الحدیث کہتے ہیں۔  اس راوی سے حدیث کا روایت کرنا حلال نہیں ۔ میزان الاعتدال میں میزان  بن جبلہ کے ترجمہ میں مرقوم ہے۔

نقل ابن القطان ان البخاري قال كل من قلت فيه منكر الحديث فلا تحل الرواية عنه

 الحاصل جامع ترمذی کی یہ حدیث ضعیف ہے۔ لہذا اس حدیث کے جملہ مذکور  ہ سے رخصت ہوتے وقت کا مصافحہ ثابت نہیں ہوسکتا۔ اور کتاب شرعۃ الاسلام میں جو یہ اثر مرقوم ہے کہ

 كان اصحاب رسول الله صلي الله عليه وسلم  اذا تلاقو اتعانقوا واذا تفرقو التصافحو او حمدوالله واستغفر وا عند ذلك وان التقوا والفترقوا في اليوم مرارا انتهي

سو یہ اثر بے سند ہے۔ صاحب شرعۃ السلام نے اس اثر کی سند لکھی ہے۔ اور نہ کسی کتاب کا حوالہ دیا ہے۔ کہ فلاں کتاب میں یہ اثر مروی ہے۔ پس جب تک اس اثر کی سند صحیح معلوم نہ ہو کیونکہ قابل اعتبار ہوسکتاہے۔ اور امام طحاوی رحمۃ اللہ علیہ  نے شرح معانی الاثار میں اس اثر کو شعبی سے روایت کیا ہے۔ مگر  اس میں لفظ واذا تفرقوا تصافحوا الخ نہیں ہے۔ بلکہ اس کا لفظ صرف اس قدر ہے۔

ان اصحاب رسول الله صلي الله عليه وسلم كانوا اذا التقوا تصافحوا واذا اقدموا من سفر تعانقوا

خلاصہ یہ کے رخصت ہوتے وقت غیر مسافر کےلئے مصافحہ کا مسنون ہونا نہ کسی حدیث مرفوع صحیح سے ثابت ہے۔ اور نہ کسی صحیح اثر سے۔ ہاں مسافر کےلئے رخصت ہوتے وقت ثابت ہے۔ واللہ اعلم۔ کتبہ محمد عبدلرحمٰن المبارکفوری۔ عفااللہ عنہ (فتاویٰ نزیریہ ج2 ص 580)

 

    ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ ثنائیہ امرتسری

جلد 2 ص 91

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ