سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(335) حمد ﷺکے معراج کے دن روشنی کرنا وغیرہ

  • 6544
  • تاریخ اشاعت : 2013-08-17
  • مشاہدات : 684

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
چند سال سے ہندوستان کے کئی مقامات میں رجبی شروع ہونے لگی ہے یعنی ۲۷، ۲۸ رجب کوحضور سرور کائنات محمد ﷺکے معراج کا حال پڑھا جاتا ہے اور بڑا مجمع ہوتاہےاور کثرت سے روشنی کا سامان راہم ہوتا ہے اور بعض جگہ اسی مجلس میں بعد بیان معراج شریف قوالی ہوتی ہے اور حال آتا ہے اور یوما فیوما اس کی ترقی ہے تو براہ مہربانی شریعت کے رو سے اس کے مضار ومنافع سے مطلع فرمائے کہ اس کا کرنے والا اور شریک ہونے والا اور مدددینے والا داخل حسنات ہوگا یا موجب سئیات،

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

چند سال سے ہندوستان کے کئی مقامات میں رجبی شروع ہونے لگی ہے یعنی ۲۷، ۲۸ رجب کوحضور سرور کائنات محمد ﷺکے معراج کا حال پڑھا جاتا ہے اور بڑا مجمع ہوتاہےاور کثرت سے روشنی کا سامان راہم ہوتا ہے اور بعض جگہ اسی مجلس میں بعد بیان معراج شریف قوالی ہوتی ہے اور حال آتا ہے اور یوما فیوما اس کی ترقی ہے تو براہ مہربانی شریعت کے رو سے اس کے مضار ومنافع سے مطلع فرمائے کہ اس کا کرنے والا اور شریک ہونے والا اور مدددینے والا داخل حسنات ہوگا یا موجب سئیات،


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

جلسہ بہئیت متعارفہ زمانہ ہذا میں جو منکرات مجتع ہیں وہ ظاہر ہیں،

 (۱) التزام مالا یلزم جس کی کراہت فقہا ء کے کلام میں منصوص اور بہت فروع فقہیہ کو اس پر متفرع کیا ہے، كما لايخفى على الماهر-

 (۲) کثرت:۔ روشنی میں اسراف کا ہونا جس کی ممانعت منصوص قرآنی ہے،

 (۳) اوس:۔ میں قوالی کا اہتمام جو تطوعات کے لئے مکروہ ہے اسی بناءپر جماعت ناقلہ کو مکروہ کہا ہے اور بھی جس قدرت منکرات کو محققین نے مجالس متعارفہ میلاد میں ذکر کیا ہے اکثر بلکہ کل مع شئی زائداوس میں مجتمع ہیں، بالخصوص ۵ اگراس کے ساتھ قوالی بھی ہو تو منکرات مضاعف ہوجاوئے گئے کیونکہ مجالس متعارفہ سماع میں شرائط اباحتہ محض مفقود ہیں اور عوارض مانعہ بکثرت موجود ہیں چنانچہ حضرت امام غزالی رحمتہ اللہ علیہ کی تحقیق متعارف پر منطق کرنے سے اس کی تصدیق ہوسکتی ہے بنا بروجوہ مذکورہ جلسہ مذکورہ کے داعی اور ساعی وبانی ومعین وشریک سب کے سب شرعا قابل ملامت وتشنیع ہونگے طالب حق کے لئے یہ مختصر کافی  ہے اور مخاصم کے لئے دفتر کے دفتر وافی ہیں،

 

فتاوی علمائے حدیث

جلد 10 ص 247

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ