سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(281) اذان میں یا کسی اور موقعہ پر لفظ محمد ؐ سنکر انگوٹھا چومنا ؟

  • 6490
  • تاریخ اشاعت : 2013-08-14
  • مشاہدات : 810

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
اذان میں یا کسی اور موقعہ پر لفظ محمد ؐ سنکر انگوٹھا چومنا جائز ہے یا نہیں

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اذان میں یا کسی اور موقعہ پر لفظ محمد ؐ سنکر انگوٹھا چومنا جائز ہے یا نہیں


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

لفظ محمد ؐ سنکر انگوٹھا چوم کر آنکھوں سے لگانا بے اصل اور بدعت ہے انگوٹھے  چوم کر ان کو آنکھوں سے لگانے کے بارے میں چند حدیثیں آتی ہیں لیکن سب غیر صیح بے اصل موضوع جھوٹی اور بناوٹی ہیں علامہ  شوکانی نے الفوائد المجموعہ ص ۱۴ میں علامہ محمد طاہر فتنی حنفی نے تذکرۃ الموضوعات ۳۴ میں، ملا علی۳ قاری حنفی نے موضو عات ص ۶۵ میں، حافظ سیوطی۴ نے تيسيرالمقال میں علامہ ابوالحسن عبدالغافرالفارسی صاحب مفہم شرح صیح مسلم نےاقوال الاكاذيبمیں، علامہ۶ ابواسحق بن عبدالجبار نے شرح رسالہ عبدالسلام لاہوری میں، علامہ ۷محمد یعقوب نیپالی نے الخیرالجادی شرح صیح بخاری میں، علامہ حسن۸ بن علی الہدی نے تعلیقات مشکوۃ میں، حافظ سخاوی۹ نے المقاصد الحسنہ میں، اوردوسرے محدثین نے ان احادیث کے بے اصل وبے ثبوت اور موضوع ہونے کی تصریح کردی ہے اسی لئے شاہ عبدالعزیز صاحب قدس سرہ نے فتوی تقبیل العینین میں اس فعل کو بدعت قرار دیا ہے، عبیداللہ رحمنہ دہلی، محدث دہلے جلد ۸ نمبر۸،


فتاوی علمائے حدیث

جلد 10 ص 75

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ