سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(644) حج بدل کےلئے کس کو ترجیح دی جائے

  • 6442
  • تاریخ اشاعت : 2013-08-12
  • مشاہدات : 342

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

زید نے حج کے ارادے سے سرمایہ جمع کیا۔  حج نہ کرنے پایا کے مرض الموت میں مبتلا ہوکر حج بدل کی وصیت کی۔ زید کا ایک قریبی رشتہ دار زید کی طرف سے حج بدل کرنا چاہتا ہے۔  اور ایک شخص متقی پرہیز گار زید کا ہم عقیدہ اس کےلئے تیار ہے۔ زید نے کسی کانام لے کر حج بدل کرنے کی وصیت نہیں کی۔  بلکہ اپنے ایک دوست کو مالیت سپرد کرکے حج بدل کی وصیت  کی ہے۔  تو حج بدل کےلئے کس کو  ترجیح دی جائے۔  یا جس  کے حق میں وصیت کی ہے۔ ا س کو اختیار ہے کہ جس کو مناسب سمجھے اس کو حج  بدل کا زاد  راہ دے کر روانہ کردیوے۔ اور کیا اس کی ضرورت ہے کہ حج بدل کرنے والا پہلے اپنا فرض حج ادا کرچکا ہو۔  (سائل حاجی محمد  سردار خان محمد خان از منڈلہ سی بی)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

انتخاب کرنا تو بے شک موصیٰ الیہ کا حق ہے۔ مگر موصیٰ الیہ کو چاہیے کہ نیک بخت کومنتخب کرے۔ کیونکہ متقی کا عمل قبول ہونے کا وعدہ ہے۔

إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللَّـهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ ﴿٢٧ سورة المائدة

حج بدل کرنے والے پر اگر اپنی حیثیت میں حج فرض ہوچکا ہے تو پہلے اسے اپنا ادا کرلینا چاہیے۔

  ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ  ثنائیہ امرتسری

جلد 01 ص 799

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ