سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(788) نا بالغ لڑکے کا حج

  • 6431
  • تاریخ اشاعت : 2013-08-12
  • مشاہدات : 633

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
زیداپنے کم عمر لڑکے کو برائے حج اپنے ہمراہ لے گیا تھا۔ ہنوز وہ لڑکا نابالغ تھا اس کا فرض ادا ہوا یا نہیں۔ اب وہ لڑکا جوان ہوگیا مالدار بھی ہے دوبارہ حج فرض ادا کرے یا نہیں؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

زیداپنے کم عمر لڑکے کو برائے حج اپنے ہمراہ لے گیا تھا۔ ہنوز وہ لڑکا نابالغ تھا اس کا فرض ادا ہوا یا نہیں۔ اب وہ لڑکا جوان ہوگیا مالدار بھی ہے دوبارہ حج فرض ادا کرے یا نہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

نابالغ پر حج فرض نہیں قرآن شریف سے معلوم ہوتا ہے کہ حج مستطیع  (صاحب  طاقت)  پر فرض ہے۔  مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا اس لئے نابالغ کے حج سے مفروضہ حج ادا نہیں ہوگا واللہ اعلم۔  (22 جون 1933ء)

تعاقب  بر فتویٰ 22 جون 1933ء؁

لیکن  رسول اللہ ﷺ سے ایک عورت ایک لڑکے کے متعلق دریافت کرتی ہے۔

هل لهذا حج قال تعم ولك اجر

اگر بقول آپ کے اور آیت شریفہ کے اس حج سے مفروضہ حج نہیں  تھا تو پھر نقل کیسی؟  (محمد یحیٰ موضع کالیکا پور رنگپوری)

جواب۔ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ حج کا ثواب ہوگا۔  جیسے نفل نماز کا اس سے ہمیں بھی انکار نہیں انکار اس میں ہے۔ کہ بعد حج بالغ متمول ہوجائے تو حج اس پرفرض رہے گا۔ وَلِلَّـهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلًا  (4 اگست 33ء)


فتاویٰ  ثنائیہ

جلد 01 ص 794

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ