سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(766) زید مقروض ہے مگر اس کے پاس اتنی رقم ہوگئی کہ جس سے..الخ

  • 6409
  • تاریخ اشاعت : 2013-08-12
  • مشاہدات : 577

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
زید مقروض ہے مگر اس کے پاس اتنی رقم ہوگئی کہ جس سے وہ اپنا قرض ادا کرسکتا ہے۔ اگر زید اپنا قرض ادا کردے۔  تو زریعہ معاش کا ر استہ بند ہوجاتا ہے۔  ایسی مجبوری کے پیش نظرزید اپنا قرض ادا نہیں کرتا۔  تو کیا صورت مذکورہ میں موجودہ  رقم پر زکواۃ فرض ہے یا نہیں؟  (یکے از گیاوی)

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

زید مقروض ہے مگر اس کے پاس اتنی رقم ہوگئی کہ جس سے وہ اپنا قرض ادا کرسکتا ہے۔ اگر زید اپنا قرض ادا کردے۔  تو زریعہ معاش کا ر استہ بند ہوجاتا ہے۔  ایسی مجبوری کے پیش نظرزید اپنا قرض ادا نہیں کرتا۔  تو کیا صورت مذکورہ میں موجودہ  رقم پر زکواۃ فرض ہے یا نہیں؟  (یکے از گیاوی)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

قرض ہرحال میں قرض ہے۔ اس کے ہوتے ہوئے نصاب ذکواۃ میں اس کا لہاظ رہے گا۔ یعنی مقروض پر بوجہ قرض زکواۃ واجب نہیں۔ واللہ اعلم  (15رمضان 1326ہجری)


فتاویٰ  ثنائیہ

جلد 01 ص 754

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ