سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(747) مریدوں کی زکواۃ فطر وغیرہ کے مال سے کچھ حصہ اپنے اہل وعیال کےلئے..الخ

  • 6390
  • تاریخ اشاعت : 2013-08-11
  • مشاہدات : 393

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

متعدد مواضع کے لوگوں نے اپنے اسلامی امورکے بندوبست کےلئے ایک عالم کو پسند کرکےپیر مان کر اس کے ہاتھ پر بطور خاطربعیت کی ۔ وہ  پیر حتی الامکان اپنے مریدوں کا اسلامی امور کے بندوبست اور جماعت انتظام کرتارہا۔ اب سوال یہ ہے کہ وہ پیر اپنے مریدوں کی زکواۃ فطر وغیرہ کے مال سے کچھ حصہ اپنے اہل وعیال کےلئے  لے سکتا ہے یا نہیں۔  (عبد الباقی)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

زکواۃ آٹھ آدمیوں پر تقسیم کرنے کا حکم ہے چنانچہ ارشاد ہے۔  

إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا ۔ الایۃ۔

یعنی زکواۃ فقیروں مسکینوں اور  ان لوگوں کےلئے ہے ۔  جو اس پر عامل ہو ں وغیرہ پیر صاحب اگر حاجت مند ہیں۔ تو عاملین کے زمرے میں داخل ہوکر کچھ حصہ اہل وعیال کےلئے لے سکتے ہیں۔ واللہ اعلم۔  (اہلحدیث 15 اکتوبر 1943ء)


فتاویٰ  ثنائیہ

جلد 01 ص 747

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ