سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(521) فطرانہ عید کتنا ہے؟ ایک صاع یا آدھاصاع؟

  • 6319
  • تاریخ اشاعت : 2013-08-07
  • مشاہدات : 2071

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

فطرانہ عید کتنا ہے۔ ایک صاع یا آدھاصاع کا وزن 80 تولہ میر سے کشا ہوتا ہے۔ ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

حدیث میں پرانا صاع مدنی آیا ہے۔ جو آجکل کے حساب سے اڑھائی صیر ہوتا ہے۔ بعض روایتوں میں نصف صاع بھی آیا ہے۔ ہمارے ہاں علماء کا یہ دستور ہے کہ ارزانی میں پورا صاع بتاتے ہیں۔ اور گرانی میں نصف صاع خدا قبول کرے۔ (29 زی قعدہ)

تشریح

جانناچاہیے کہ صدقہ فطر ازروئے آیہ کریمہ واحادیث صحیحہ کے فرض عین ہے۔ -فرمایا اللہ تعالیٰ نے ۔

 قَدْ أَفْلَحَ مَن تَزَكَّىٰ ﴿١٤ سورة الأعلى

’’فلاح پائی جس نے صدقہ فطر ادا کیا‘‘ کیونکہ یہاں تزکی سے مراد ازروئے حدیث مرفوع کے صدقہ فطر ادا کرنا ہے۔ اور یہ آیت صدقہ فطر کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ قال اللہ تعالیٰ۔

قَدْ أَفْلَحَ مَن تَزَكَّىٰ ﴿١٤ وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّىٰ ﴿١٥سورة الأعلى

"ولا بن خزيمة من طريق كثير بن عبد الله عن ابيه عن جده ان رسول الله صلي الله عليه وسلم سئل عن هذه الاية فقال نولتفي زكوة الفطر انتهي ما في نيل الاوطارللعلامة الشوكاني"

اور ابی سعید خدری رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے بھی یہ روایت ہے۔ اور ابو العالیہ اور ابن سیرین بھی یہی کہتے ہیں۔ اور اکثر لوگ ان کے سوا اور صحیح میں یعنی بخاری اور مسلم میں اعرابی کے قصہ میں فلاح اس کے لئے ثابت ہوتی ہے۔ جو صرف فرائض ادا کرے۔ اور صدقہ فظر اداف کرنے والے کو بھی افلح یعنی فلاح پائی فرمایا تو معلوم ہوا کہ صدقہ فطر بھی فرض ہے۔ کما لا یخفی علی الفطین

"قال الحابظ ابن حجر عسقلاني في فتح الياري شرح البخاريوقال الله تعالي قد افلح من تزكي وثبت انها نزلت في زكوة الفطر وثبت في الصحيحين اثبات حقيقة الفلاح لمن اقتصر علي الواجبات انتهي"(بخاري ۔ مسلم)

ان احادیث صحیحہ موجودہ میں سے ایک یہ ہے’’ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے۔ کہا فرض کیا رسول اللہﷺ نے صدقۃ الفطر ایک صاع  خرما سے یا ایک صاع جو سے یا اس سے جو ان کے سوا اور کانے کی چیزیں ہیں۔ جن کا بیان ان شاء اللہ تعالیٰ آوے گا۔ ہرغلام آذاد۔ مردعورت۔ لڑکے اورجوان پر مسلمانوں سے اور حکم کیا آپﷺ نے کہ ادا کیا جاوے صدقہ فطر پہلے اس سے کہ لوگ نماز کونکلیں۔‘‘

اس حدیث سے صراحتاً صدقہ فطر کی فرضیت ثابت ہوتی ہے۔ حدیث میں لفظ فرض کا موجود ہے۔ اور فرض کے دوسرے معنی مراد لینا بغیر کسی قرینے صارفہ کے صحیح نہیں۔    کیونکہ یہ معنی فرض کا حقیقت شرعیہ سے کما تقرر فی الاصول اور اس کے سوا بہت سی حدیثیں ہیں۔ ایک ہی پر اکتفا کیا تاکہ طول نہ ہوجاوے۔ چنانچہ بخاری نے صدقہ فطر کے فرض ہونے پر ایک باب منعقد کیاہے۔ مگر اس کی قضا نہیں ہے۔ اور قاعدہ حکمیہ نہیں ہے۔ کہ جو فرض عین ہے اس کی قضا لازم ہے۔ محض بے دلیل ہے۔ کما تقرر فی الاصول اور ہر مسلمان پر فرض ہے۔ جو اس کی استطاعت رکھتا ہو خواہ مرد ہو یا خواہ عورت خواہ لڑکا ہو خواہ جوان خواہ غلام ہو خواہ آذاد خواہ امیر ہو خواہ غریب جیسا کہ حدیث مذکورۃ الصدر سے واضح ہے کہ مطلق شرط صاحب نصاب ہونے کی نہیں بلکہ دارقطنی اور احمد کی روایت میں تصریح بھی آگئی ہے۔ کہ فقیر پر فرض ہے۔ واستدلال بقولہ فی حدیث

"ابن عباس في فطرة الصائم علي انها تجب علي الفقير كما علي الغني وقد ورد ذلك صريحا في حديث ابي هريره عند احمد وفي حديث ثعلبة ابن ابي صغير عند ا لدار قطني انتهي ما في فتح الياري"

مگر استطاعت ضروری ہے۔ فرمایا اللہ تعالیٰ نے۔

لَا يُكَلِّفُ اللَّـهُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَا﴿٢٨٦سورة البقرة

 (ترجمہ) ’’ نہیں تکلیف دیتا اللہ کسی کو لیکن اس کی طاقت کے موافق ‘‘

لڑکے کا اگر مال ہو تو اس کا ولی اس میں سے صدقہ فطر نکالے اور اگر مال نہ ہو تو اس کرطرفسے اس کا باپ یا جس پر اس کا نفقہ واجب ہے ادا کرنے یہی قول جمہور کا ہے۔

"وجوب فطرة الصغير في ما له والمخاطب باخراجنا وليه ان كان للصغير مال والا وجبت عي من قلزمه نفقة والي هذا ذهب الجمهور انتهي ما في نيل الاوطار قوله الصغير والكبير ظاهره وجوبها علي الصغير لكن المخاطب عنه وليه فوجوبها علي هذا في مال الصغير ولا فعلي من قلزمه نفقة وهذا قول الجمهور انتهي ما في" (فتح الباري)

اور غلام کا مولیٰ ادا کرے۔ کیونکہ مسلم کی حدیث میں آیا ہے۔ کہ مولیٰ پر غلام کاصدقہ نہیں مگر صدقہ فطر اس سے معلوم ہوتا ہے۔ کہ غلام کا صدقہ فطر مولیٰ ادا کرے ۔

"قوله علي العبد الخ ظاهره اخراج العبد عن نفسه ولم يقل به الا داود وخالفه اصحابه والناس واحتجوا بحديث ابي هريره مرفوعا ليس في العبد صدقة الاصدقة الفطراخرجه مسلم ومقتضاه انها علي السيد انتهي ما في فتح الباري ملخصا بقدر الحاجة"

حنفی مذہب میں صدقہ فطر واجب ہے۔ صاحب نصاب پر یعنی جس کے پاس ذکواۃ کا نصاب ہو اور لڑکے کا صدقہ صرف باپ ادا کرے۔ اور سب باتوں میں موافق اسی کے ہے۔ جو گزرا ہے ہدایہ میں ہے۔

"صدقة الفطر واجبة علي الحرالمسلم اذا كان مالكا لمقدار النصاب فاضلا عن مسكنه وثيابه واثاثه وفرسه وسلاحه وعبيده يخرج ذلك عن نفسه ويخرج عن اولاده الصغار ومما ليكه انتهي ملخصا"

اور وقت ادائے صدقہ کا قبل نماز عید الفطر کے ہے۔ اور اگر کوئی دو یا تین روز یا زیادہ عید سے پہلے ادا کردے۔ تو جائز ہے۔ اور بعد نماز عید کے اگر دے گا تو ادا نہ ہوگا۔ کیونکہ آیت مذکورہ قَدْ أَفْلَحَ مَن تَزَكَّىٰ ﴿١٤ وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّهِ فَصَلَّىٰ ﴿١٥سورة الأعلى اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صدقہ فطر نماز پر مقدم ہے۔ کیونکہ فصلی ٰ کے ساتھ فائے تعقیب کے زکر کیا ہے۔ جس سے تعقیب صلاۃ کی صدقہ سے مستفاد ہوتی ہے

"كما لا يخفي علي من له ادني قامل"

اور جو چیز طعام یعنی قابل قوت ہے۔ مثل گہیوں جو پنیر ۔ خرما ستو وغیرہ کہ اس میں سے صدقہ فطر ادا کرناصحیح ہے۔ (محمد یاسین الرحیم آبادی ثم العظیم آبادی عفی عنہ )

وہ غریب مسلمان کے جس کے پاس کچھ نہ ہو بہت ہی بھوکا ہو۔ اس پر یہ فطرہ کسی صورت سے نہیں ہے۔ اگر اس کو دو وقت کی فراٖغت حاصل ہو تو اس کو دینا چاہیے۔ یہ فطرانہ خواہ اپنے خویش کو یا غیر کودے جو فطرہ دے سکتا ہے۔ اس پر فرض ہے۔ (حررہ محمد امیر الدین حنفی واعظ جامع مسجد دہلی (محمد امیر الدین 1301)

نیز ! جاننا چاہیے کہ جو صاع حدیث میں آیا ہے۔ وہ صاع آپ ﷺ کا ہے۔ اسے صاع حجازی کہتے ہیں۔ اسی صاع حجازی سے صدقہ وغیرہ ادا کرنا چاہیے۔ صاع عراقی سے نہیں کیونکہ صاع عراقی آپﷺ کا صاع نہیں ہے۔ چنانچہ اس کی تصریح  کتب حدیث میں موجود ہے۔ اور جو احکام اس صاع سے ہونا چاہیے۔ جو آپ ﷺ کاصاع ہے۔ اوراس کاوزن سیروں کے حساب سے ہے۔ جو مسک الختام شرح بلوغ المرام میں ہے۔ پس صدقہ فطر لبیر پختہ لکھنو کہ نودوشش روپیہ است ورد پیہ یازدہ ماشہ ںنصف صاع از گندم ایک آثار وشش چھٹا نک وسہ ماشہ از جو دوچند آن یعنی دو ثاروں نیم پائووشش ماشہ وچہار رتی است یک سیر نیم پائو و نیم چھٹانک ویک تولہ وسہ ماشہ باشد انتہیٰ اور یہ بھی معلوم کرناچاہیے کہ اصل صدقہ فطر میں کیل یعنی پیمانہ تانبے کا ہے۔ اور وزن کے قدر کی جو حاجت پڑتی ہے۔ تو صرف استفارا واستعانثہ لطلب حفظ الاحکام کما لا یخفی علی الماہر اور لا محالہ قدروزن میں قدر قلیل اختلا ف معلوم ہوتا ہے۔ اور حقیقت میں مشکل ہی ہے۔ ضبط ساع کاساتھ ارطال وغیرہ کے کیونکہ جو آپ ﷺ کے زمانہ مبارک میں تھا۔ اس سے صدقہ فطر ادا کیا جاتا تھا۔ وہ تو پیمانہ معروف مشہور تھا۔ اب اندازہ قدر اس کا وزن ہوتا ہے۔ .ساتھ مختلف ہونے اجناس صدقہ کے مثل حمص وذرہ وغیرہ کے تو ضرور ہے۔ کہ ایسے پیمانہ سے ص

دقہ دینا چاہیے کہ موافق صاع پیمانہ رسول اللہ ﷺ کے ہو۔ اور جو شخص اس کو نہ پائے تو لازم ہے۔ کہ اس طرح سے ادا کرے۔ کہ یقین کامل ہو کہ یہ اس سے کم وناقص نہیں ہوگا۔ مسک الختام میں لکھا ہے۔ کہ احتیاطاًدر صدقہ فطر دو سیر انگریزی گندم بایدداد وصاع از جو د وچند آں یعنی دوسیرو یک ونیم چھٹانک واحتیاطا ًاز جو چہار سیر باید داد انتہیٰ۔ پس مقدر کرنا صاع کوساتھ پانچ رطل وثلث رطل کے بہت اقرب الی الصواب ہے  اور کہا صاحب روضہ نے

"وقد يشكل ضبطاالصاع بالارطال فان الصاع المخرج به في زمن النبي صلي الله عليه وسلم ميكال معروف ويختلف قدره وزنا باختلاف جنس ما يخرج كالزرة والحمص وغيرها والصواب ما قاله الدارمي ان الاعتماد ع لي الكيل بصاع مغائر بالصاع الذيكان يخرج به في عصر النبي صلي الله عليه وسلم ومن لم يجده لزمه اخراج قدر تيقن انه لا ينقص عنه وعلي هذا فامتفدير بخمسة امر طال وثلث تقرب كذا في عون الباري لحل اوله البخاري"

اور بعض علماء نے کہا ہے کہ صاع چار لپ یعنی چار بک متوسط آدمی کا ہے۔ اور یہ تجربہ بھی کیا گیا ہے پس صحیح اور موافق ہے۔ صاع رسول اللہ ﷺ کے۔ ۔ ۔ کزا فی القاموس وحکای النووی الیضا فی الروضہ۔ اور اہل پنجاب اس امر میں بہت اچھے اور خوب ہیں۔ کیوں کہ ان کے یہاں پیمانہ مثل مد کے پڑوپی ہے۔ اور مثل صاع کے ٹو پہ ہ ار وہ اسی پر اجراء احکام وغیرہ کرتے ہیں۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ  ثنائیہ امرتسری

جلد 01 ص 680-675

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ