سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(456) پانی ناپاک کس طرح ہوتا ہے؟

  • 6253
  • تاریخ اشاعت : 2013-08-06
  • مشاہدات : 590

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

پانی ناپاک کس طرح ہوتا ہے۔ اور اس کے پاک کرنے کا کیا حکم ہے کیا ابتدائے اسلام میں تا خلافت راشدہ 30 سال تک آب نوشی کے چاہات نہ تھے اگر تھے تو ان میں کوئی چیز مثلا چوہا ۔ چڑیا۔ یا بلی ۔ کتا گرتا تو کس طرح پاک کرتے تھے۔ اور اگر کوئی میلا کپڑا گرتا تھا تو کس طرح پاک کرتے تھے۔ (شجاع الدین پنشز)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

پانی جتنا بھی ہو پاک ہے ۔ جب تک اس میں کوئی ناپاک چیز اتنی نہ گرے جس سے اس کی بو یا مزہ یا ر نگ بدل جائے زمانہ نبوت میں پانی کے کنویں تھے۔ مگر ایسے جانور گرنے سے ناپاک نہ سمجھتے جاتے تھے۔ یہ رائے پچھلوں کی ہے۔ وہاں وہی قانون تھا جو مذکور ہوا۔

تشریح

سوال۔ چہ فرمانید علمائے دین دریں مسئلہ کہ اگر بہگ چاہ افتادچہ وحکم اسج بینوا (یعنی جس کنویں میں کتاگرجائے اسکے لئے کیا حکم ہے)

الجواب۔ حکم چاہ مذکور آنست کہ اگر آب آں چاہ ازا فتادن سگ متغیر نہ شدہ است بلکہ برحال خود است آں چال چاہر است واگر بو یا مزہ یا رنگ متغیر شدہ است نجس است

"عن ابي سعيد الخدري قال رسول الله صلي الله عليه وسلم الما ء طهور لاينجسه شئ اخرجه الثلاثة وصححه احمد كذا في بلوغ الورام وفيه ايضا عن ابي امامة الباهليقال قال رسول لله صلي الله عليه وسلم ان الماء لا ينجسه شئ الاما غلب علي يدحه وطعمه ولونه اخرده ابن ماجة وضعفه ابة حاتم وللبيهقي الماء طاهر الان تغير ريحه اوطعمه او لونه بنجاسة تحدثفيه انتهي الخ"

 (اراقم ابو محمد عبدالحق اعظم گڑھی عفی عنہ ۔ سیدمحمد نزیر حسین۔ فتاویٰ نزیہ جلد اول ص 202)

خلاصہ اس کا یہ ہے کہ کنواں وغیرہ محض کتاگر جانے سے ناپاک نہیں ہوسکتا۔ جب تک اس کابو یا مزہ یا رنگ تبدیل نہ ہوا حادیث سے یہی چیز ثابت ہے اور اسی پر علمائے السلام  کا اجماع سبل السلام میں ہے۔

"اجمع العلماء علي ان الماء القليل والكثير اذاوقعت فيه نجاسة فغيرت له طعما اولو نا اور يحا فهو نجس فا لا جماع هوالدليل علي نجاسة ما تغير احد اوصافه لا هذه الزياية انتهي"

عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت میں اتنی تفصیل اورآتی ہے۔

"اذا كان الماء قلتين لم يحمل الخبث وفي لفظ لم ينجس اخرجه الا ربعة وصححه ابن خزيمة"

’’یعنی جب پانی دو قلہ ہو تو جب تک اس کا رنگ یا مزہ یا بونہ بدلے ناپاک نہیں ہوتا۔ ‘‘دو قلوں کااندزہ عرب کی جیسی بڑی بڑی مشکوں سے 10۔ 12۔ مشک پانی کاہے۔ مذید تفصیلات کے لئے حوالہ مذکور ملاحظہ ہو محمد دوائود راز ۔

  ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ  ثنائیہ امرتسری

جلد 01 ص 614

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ