سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(517) حالت حیض میں دی گئی طلاق کا عدم وقوع

  • 6160
  • تاریخ اشاعت : 2013-07-31
  • مشاہدات : 600

سوال




السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
کیا حیض یا نفا س میں طلاق واقع ہوجاتی ہے یا نہیں۔؟اگر واقع نہیں ہوتی جیسا کہ اہل علم کی ایک جماعت کا مذہب ہے، تو صورت مسئلہ میں قرآن وسنت کی روشنی میں کیا حکم ہوگا۔
شریعت نے طلاق کا حق اور اختیار صرف مرد کو دیا ہے بغیر بیوی کی رضامندی اور مرضی کے
ایک شخص اپنی بیوی کوطلاق دیتا ہے اسے نہیں معلوم کہ بیوی اس وقت حالت حیض یا نفاس میں ہے یا حالت طہر میں، ایسی صورت میں عورت اس طلاق پر اپنی مرضی مسلط کردیتی ہے، یعنی اگر اسے خاوند سے جدائی چاہئے تو وہ حالت حیض یا نفاس میں ہوتے ہوئے خود کو حالت طہر میں ظاہر کرتی ہے۔ اور اگر وہ طلاق نہیں چاہتی تو حالت پاکی میں ہوتے ہوئے خود کو حالت حیض یا نفاس میں ظاہر کرتی ہے۔سوال یہ ہے کہ ایسی صورت میں شریعت کی کیا ہدایات ہیں۔؟
کیا اس طلاق کے وقوع یا عدم وقوع میں عورت کے قول یا گواہی پر اعتبار ہوگا۔؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا حیض یا نفا س میں طلاق واقع ہوجاتی ہے یا نہیں۔؟اگر واقع نہیں ہوتی جیسا کہ اہل علم کی ایک جماعت کا مذہب ہے، تو صورت مسئلہ میں قرآن وسنت کی روشنی میں کیا حکم ہوگا۔

شریعت نے طلاق کا حق اور اختیار صرف مرد کو دیا ہے بغیر بیوی کی رضامندی اور مرضی کے

ایک شخص اپنی بیوی کوطلاق دیتا ہے اسے نہیں معلوم کہ بیوی اس وقت حالت حیض یا نفاس میں ہے یا حالت طہر میں، ایسی صورت میں عورت اس طلاق پر اپنی مرضی مسلط کردیتی ہے، یعنی اگر اسے خاوند سے جدائی چاہئے تو وہ حالت حیض یا نفاس میں ہوتے ہوئے خود کو حالت طہر میں ظاہر کرتی ہے۔ اور اگر وہ طلاق نہیں چاہتی تو حالت پاکی میں ہوتے ہوئے خود کو حالت حیض یا نفاس میں ظاہر کرتی ہے۔سوال یہ ہے کہ ایسی صورت میں شریعت کی کیا ہدایات ہیں۔؟

کیا اس طلاق کے وقوع یا عدم وقوع میں عورت کے قول یا گواہی پر اعتبار ہوگا۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

١۔حالت حیض میں نبی کریم نے طلاق دینے سے منع فرمایا ہے،اگر کوئی حالت حیض یا نفاس میں طلاق دے دیتا یے تو اس کے وقوع کے بارے میں اہل علم کا اختلاف ہے۔

آئمہ اربعہ سمیت جمہور اہل علم کے نزدیک گناہ کے باوجود وہ طلاق واقع ہو جائے گی،

جبکہ ظاہریہ، امام ابن تیمیہ،امام ابن قیم اور امام شوکانی کے نزدیک وہ طلاق واقع نہیں ہو گی،کیونکہ وہ طلاق بدعی ہے ،جس سے منع کیا گیا ہے۔اور یہی موقف راجح ہے۔

شیخ ابن باز نے بھی اسی کو ترجیح دی ہے۔وہ فرماتے ہیں

" لأن شرع الله أن تطلق المرأة في حال الطهر من النفاس والحيض ، وفي حالٍ لم يكن جامعها الزوج فيها ، فهذا هو الطلاق الشرعي ، فإذا طلقها في حيض ، أو نفاس ، أو في طهر جامعها فيه : فإن هذا الطلاق بدعة ، ولا يقع على الصحيح من قولي العلماء ، لقول الله جل وعلا :
﴿ يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ ﴾ الطلاق/1.
والمعنى : طاهرات من غير جماع ، هكذا قال أهل العلم في طلاقهن للعدة ، أن يَكُنَّ طاهرات من دون جماع ، أو حوامل . هذا هو الطلاق للعدة " انتهى

" اس ليے كہ اللہ سبحانہ و تعالى نے مشروع كيا ہے كہ عورت كو نفاس اور حيض سے پاكى كى حالت ميں اور ايسى حالت ميں طلاق دى جائے جس ميں بيوى سے ہم بسترى نہ كى گئى ہو، تو يہ شرعى طلاق ہوگى.

ليكن اگر كوئى شخص حيض يا نفاس يا پھر ايسے طہر ميں طلاق دے جس ميں بيوى سے ہم بسترى كى ہو يہ تو طلاق بدعى كہلاتى ہے، اور صحيح قول كے مطابق يہ طلاق واقع نہيں ہوگى؛ كيونكہ اللہ سبحانہ و تعالى كا فرمان ہے:

{ اے نبى ( صلى اللہ عليہ وسلم ) جب آپ عورتوں كى طلاق ديں تو انہيں ان كى عدت ( كے آغاز ) ميں طلاق ديں }الطلاق ( 1 ).

معنى يہ ہے كہ وہ جماع كے بغير پاك ہوں، اہل علم نے اس كى تفسير كرتے ہوئے يہى كہا ہے كہ وہ جماع كے بغير طہر ميں ہوں، يا پھر حاملہ ہوں يہ تو عدت كے ليے طلاق ہے " انتہى

فتاوى الشيخ ابن باز (21/286) .

اس سلسلے میں لجنہ دائمہ سے سوال کیا گیا تو اس نے فرمایاۛ

" الطلاق البدعي أنواع منها : أن يطلق الرجل امرأته في حيض أو نفاس أو في طهر مسها فيه ، والصحيح في هذا أنه لا يقع " انتهى

"فتاوى اللجنة الدائمة" (20/58) :

" طلاق بدعى كى كئي ايك انواع و اقسام ہيں جن ميں يہ بھى شامل ہے كہ آدمى بيوى كو حيض يا نفاس يا پھر جس طہر ميں بيوى سے جماع كيا ہو طلاق دے، صحيح يہى ہے كہ يہ طلاق واقع نہيں ہوگى " انتہى

۲۔حیض ہونے یا ہونے کے بارے میں عورت کا قول معتبر جانا جائے گا۔ خواہ وہ سچ بولے یا جھوٹ،جھوٹ ہونے کی صورت میں وہ خود گناہ گار ہے۔

ھذا ما عندی واللہ أعلم بالصواب

فتاویٰ  ثنائیہ

جلد 01

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ