سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(291) مقتدی کب کھڑے ہو؟

  • 6079
  • تاریخ اشاعت : 2013-07-28
  • مشاہدات : 727

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

امام اور مقتدی شروع تکبیر سے اپنی اپنی جگہ کھڑے ہوجایئں۔ یا جب مکبر حی علی الصلواۃ۔ پر پہنچے۔ ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

کسی حدیث میں میں نے یہ ترتیب نہیں دیکھی۔ علماء کی ذہنیت ہے۔ جس پر  عمل کرنا نہ واجب ہے نہ حرام۔

تشریح

یہ بریلوی علماء کی ایجاد ہے۔ جو صحیح نہیں ہے۔ حدیث صحیح سے امام کا بعد تکبیر موذن یعنی تکبیر پوری کہنے کے بعد اپنی جگہ مصلیٰ پر کھڑا ہونا او ر تکبیر تحریمہ کہناثابت ہے۔

اور مقتدیوں کا امام سے بھی پہلے اپنی جگہ پر کھڑا ہونا ثابت ہے۔''حی علی الصلواۃ ''سے نماز کا بلاوا ہے۔اور ''قدْ قامت  الصلواۃ'' کا مطلب یہ ہے کہ نماز کے لئے جلد آئو نماز قائم ہونے کو ہے۔ماضی بمعنی مضارع ہے۔ اول کلام میں بھی آتی ہے اور مجاز بالمشارف بھی مسئلہ ہے۔ حدیث یہ ہے۔

"عن بي هريره ان الصلوة كانت تقام لرسول الله صلي الله عليه وسلم فياخذ الناس مصافهم قبل انياخذ النبي صلي الله عليه وسلم  مقامه"(رواہ مسلم ابو دائود)

"وعن ابي هريرة قال اقيمت الصلوة وعدلت الصفوف قياما فبل اويخرج الينا النبي صلي الله عليه وسلم فخرج الينا فلما قام في مصلاه الحديث متفق عليه ولا خلاف ينه وبين الحديث الثاني اذا اقيمت الصلوة فلا تقوموا حتي تروني قد خرجت اخرجه مسلم واصحاب السنن والبخاري"(مختصر نیل الاوطار ج3 ص 162)

"لان لنع قبل الخروج عن البيت والجواز بعد الخرودج والخروج ورويتهم له صلي الله عليه وسلم "۔الغرض یہ کوئی شرعی مسئلہ نہیں ہے۔کے مقتدیوں کے لئے لفظ ''قد قامت الصلواۃ'' کا لفظ سننے سے پہلے جماعت میں صفیں سیدھی کرنے کےلئے کھڑا ہونا حرام ہے جو ایسا کہتا ہے وہ غلطی پر ہے۔(ابو سعید شرف الدین دہلوی)

  ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ  ثنائیہ امرتسری

جلد 01 ص 486

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ