سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(281) ایک امام پانچ وقت کی نماز پڑھاتا ہے..الخ

  • 6069
  • تاریخ اشاعت : 2013-07-28
  • مشاہدات : 551

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک امام پانچ وقت کی نماز پڑھاتا ہے۔ عادت اس کی  یہ ہے کہ پہلی رکعت میں 28 پارہ کی سورت قرات میں پڑھتا ہے۔ اوردوسری رکعت میں سورہ بقرہ یعنی پارہ 2 سے پڑھتا ہے۔ ہر روز جان بوجھ کر یہ اسی ترتیب سے پڑھتا ہے۔ آنجناب سرور کائنات ﷺ نے ایسے طور پر قرات پڑھنے کی اجازت دی ہے۔ یا نہیں۔ اگر ایسا آگے پیچھے پڑھنا تھا  تو ترتیب کی کیا ضرورت تھی۔ قرآن مجید وفرقان حمید کی ترتیب نبی کریمﷺ نے بنائی ہے۔ یا صحابہ کرام رضوان للہ عنہم اجمیعن  نے جناب کی ترتیب قائم ہوکر پڑھتے ہیں۔ یا الٹ کرتے رہے ہیں۔ سب حالات آپﷺ سے مفصل تحریر کریں۔ بڑے سے بڑا معتبر پتہ ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ  دیتے ہیں۔ ایک روزخلیفہ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے سورہ کہف میں  پہلی ر کعت میں  دوسری میں سورہ یوسف پڑھی۔ انہوں نے ایسا کرنا بتایا یا وتروں میں کسی صحابہ کرامرضوان للہ عنہم اجمیعن  نے پہلی رکعت میں فلق دوسری میں والناس تیسری میں اخلاص۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ترتیب قرآنی کو ملحوظ رکھتے ہوئے۔ نماز میں آگے پیچھے سورت پڑھنا شرعا جائز ہے۔ آپﷺ کے عہد مبارک میں ایک شخص فاتحہ کے بعد سورہ قل ھو اللہ  پہلے پڑھتا۔ پھر اور سورۃ پڑھتا خواہ وہ قل ھو اللہ سے پہلے کی ہو یا بعد رسول اللہﷺ نے خبر پا کر اس ک منع نہیں کیا۔ احنف بن قیس نے پہلی رکعت میں سورہ کہف پڑھی۔ دوسری میں سورہ یوسف یا سورہ یونس پڑھی اور کہا کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ  نے بھی صبح کی نماز میں اسی طرح پڑھی تھیں۔ (صحیح بخاری) اس لئے کوئی شخص اب بھی ایسا کرتا ہے۔ تو حرج نہیں در مختار میں آیا ہے۔ لا باس بہ کوئی حرج نہیں۔

  ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

فتاویٰ  ثنائیہ امرتسری

جلد 01 ص 483

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ