سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(192) گیارہویں کے ختم کا رواج بدعت ہے؟

  • 5934
  • تاریخ اشاعت : 2013-07-27
  • مشاہدات : 762

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
جو کہ ختم گیارہویں شریف کا دلاتے ہیں۔ اس میں شریک ہوناچا ہیے یا نہ وہ کھیر کھانی چاہییے یا نہ۔ کیونکہ وہ لوگ کہتے ہیں۔ کہ ہم یہ روٹی خدا واسطے کھلاتے ہیں۔ اور بھی اپنی خدا وسطے ظاہر کرتے ہیں۔ مگر یہ ختم گیارہویں تاریخ کودلاتے ہیں ازروئے قرآن وحدیث جواب عنایت فرمایئں۔

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

جو کہ ختم گیارہویں شریف کا دلاتے ہیں۔ اس میں شریک ہوناچا ہیے یا نہ وہ کھیر کھانی چاہییے یا نہ۔ کیونکہ وہ لوگ کہتے ہیں۔ کہ ہم یہ روٹی خدا واسطے کھلاتے ہیں۔ اور بھی اپنی خدا وسطے ظاہر کرتے ہیں۔ مگر یہ ختم گیارہویں تاریخ کودلاتے ہیں ازروئے قرآن وحدیث جواب عنایت فرمایئں۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ختم گیارویں کا رواج نہ زمانہ رسالت میں تھا۔ نہ عہد خلافت میں اس لئے بدعت ہے۔ حدیث میں ہے۔ كل عمل ليس عليه امرنا او عملنا فهو رد یعنی آپﷺ نے فرمایا ہے جو کام ہم نے نہ بتایا ہو۔ نہ کیاہو۔ وہ مردود ہے۔ اس لئے ایسی بدعت کی مجلس میں شریک ہونا یا اس چیز کاکھانا گناہ ہے۔ خدا کے واسطے دینا منع نہیں لیکن گیارہویں کے نام سے کرناشرک یا کم از کم بدعت ہے۔ ایسے افعال سے خود حضرت پیر صاحب نے منع فرمادیا۔ ہوا ہے۔ فتوح الغٰب ملاحظۃ ہو۔ 20 شعبان 39 ہجری)


فتاویٰ  ثنائیہ

جلد 01 ص 358

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ