سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(166) علم غیب اور دعوت رسول السلام کی بحث

  • 5908
  • تاریخ اشاعت : 2013-07-25
  • مشاہدات : 1194

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

قال الله تعالي۔ ۔ ۔

عـٰلِمُ الغَيبِ فَلا يُظهِرُ‌ عَلىٰ غَيبِهِ أَحَدًا ﴿٢٦  إِلّا مَنِ ار‌تَضىٰ مِن...وَما هُوَ عَلَى الغَيبِ بِضَنينٍ ﴿٢٤ وَعَلَّمَكَ ما لَم تَكُن تَعلَمُ ۚ

احادیث نبویہ ۔ علمت علم الاولين والاخرين علمت ما كان و ما يكون زید آیات قرآنیہ واحادیث نبویہﷺ مذکورۃ الصدر وغیرہ ذالک کے رو سے حضرت نبینا علیم السلام کی نسبت عالم الغیب ہونے کا اعتاد رکھتا ہے اوردعویٰ سے کہتا ہے کہ آیات و حدیث مرقومہ سے ثابت ہوچکا کہ حضرت کو علم غیب حاصل ہے اورحضرت جمیع مغیبات کے عالم ہیں۔ اور جو آیات و احادیث نفی علم غیب کے متعلق وارد ہیں۔ اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ یہ آیات وحادیث اس زمانہ کی ہیں۔ جس وقت آپ کو ان امور کے متعلق علم غیب نہیں عطا ہوا تھا۔ بہ تدریج آپ کو مغیبات کاد علم عطا ہوتا گیا۔ یہاں تک کے حضورﷺ کی زندگی کے آخری دور میں امور خمسہ یعنی بارش کب ہوگی۔ اور کل کیا ہوگا۔ حاملہ عورت کے بطن میں کیا ہے۔ وغیرہ ذالک۔ سب کا علم آپ کو عطا کیا گیا۔ آپ ما فی السموات وما فی الارض سے ہرچیز کو جانتے ہیں۔ صرف فرق یہ ہے کہ علم بای تعالیٰ حقیقی وذاتی ہے ۔ وعلم نبوی ﷺ اضافی و عطائی۔ مگر مغیبات کا علم خدا اور رسول خدا دنوں کو حاصل ہے۔

آپ براہ کرم بحوالہ قرآن وحدیث ودیگر کتب معتبرہ فقہ اس مئلے کا مدلل و مفصل جواب تحریرفرمایئے۔ اور اپنے پرچہ اہل حدیث میں شائع فرمائیے۔ اور یہ بھی تحریر فرمایئے کہ محدثین و مفسرین وفقہائے علم غیب کی کیا تعریف کی ہے۔ اور تعریف کی رو سے حضرت نبی ﷺ کے علم پر غیب کا اطلاق ہوسکتا ہے یا نہیں مدلل فرمایئے۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

علم غیب کی تعریف ہے۔ کل اشیاء موجودہ کوجاننا۔ وہ اشیاء گزشتہ زمانے میں موجود ہوچکی ہوں۔ یا اب ہوں۔ یا آئندہ کبھی ہونے والی ہوں۔ آپﷺ کے حق میں علم غیب کا اعتقاد رکھنا اسلام کے مذاہب معتبرہ میں سے کوئی ایک مذہب بھی نہیں۔ فقہائے حنفیہ مثل محدثین اس عقیدے کو کفر لکھتے ہیں۔ ملاحظہ ہو شرح فقہ اکبر وغیرہ قرآن مجید میں اس کی صاف نفی ہے

قُل لا أَقولُ لَكُم عِندى خَزائِنُ اللَّهِ وَلا أَعلَمُ الغَيبَ

''یعنی اے پیغمبر ﷺ تم ان کو کہہ دو۔ کہ میرے پاس خدا کے خزانے نہیں۔ نہ میں غیب جانتا ہوں۔ آیت اولی کو بڑی شدو مد سے بیان کیا جاتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں۔ اس کو بیان کرنے والے اور تو اور اصول اور معقول سے بالکل بے خبر ہیں۔ اصول حنفیہ تو یہ ہے کہ مسثنے ٰحکم نہیں ہوتا۔ پھر مستثنے کے ساتھ استدلال کیوں کر ہو۔ اوراگر مان بھی لیں کہ مستثنے میں حکم ہے۔ تو حسب قواعد معقول مستثنی منہ کی نقیض ہوگا۔ اور نقیض موجبہ کلیہ کی سالبہ جزیئہ اور سالبہ کلیہ کی موحیہ جزئیہ ہوگی۔ وائمہ کی مطلقہ عامہ یہ نہیں کہ سالہہ کلیہ ہو کہ موجبہ کلیہ ہو۔ اور وائمہ سالبہ ہو۔ پس حسب قواعد منطقیہ مستثنی الامن ارتضیٰ الخ۔ کے معنی وہ ہوں گے۔ جو مستثنےٰ منہ کی بمنزلہ نقیض ہوگی۔ چونکہ مستثنے منہ بلحاظ موضوع اور بلحاظ اوقات دونوں طرح سالبہ کلیہ ہے۔ اس لئے مستثنےٰ دونوں حیثتوں سے موجبہ جزئیہ ہوگا۔ یعنی یہ معنی ہوں گے۔ کے اللہ تعالیٰ بعض نبیوں کو بعض اوقات اپنے علم کی بعض باتوں پر اطلاع دیتا ہے۔ اس سے نہ کسی کو انکار ہے۔ نہ یہ علم غیب ہے۔ دوسری آیت کے معنی بھی صاف ہیں۔ کہ نبی کو جو علم غیب بطریق مذکور جتنا ملتا ہے۔ وہ اس پر بخل نہیں کرتا۔ بلکہ سب کھول کر سنا دیتا ہے۔ جس سے کسی کو انکار نہیں۔ تیسری آیت کی تفسیر کرنے سے پہلے یہ بتانا مناسب ہے۔ کہ اس قسم کی آیت ہم عام مسلمانوں کے حق میں بھی ہے۔ بعلمكم ما لم تكونوا تعلمون یعنی تم کو نبی وہ باتیں سکھاتا ہے۔ جو تم نہیں جانتے تھے۔ مطب یہ ہے کہ دین کی باتیں جو تم نہیں جانتے تھے۔ وہ تم کوسکھایئں۔ اسی طرح آپﷺ کو خطاب ہے کہ اے نبی ﷺ جوکچھ تو نہیں جانتا تھا وہ تجھ کو سکھا دیا۔ اس سے نہ مسلمانوں کا علم غیب ثابت ہوا نہ آپﷺ کا۔ اسی طرح علم الاولین میں علم مصدر کی اضافت فاعل کی طرف ہے۔ یعنی جتنا کچھ پہلے اورپچھلے لوگوں کو خدا کی معرفت حاصل تھی۔ او ر ہوگی۔ وہ سب مجھ (پیغمبرﷺ) کو حاصل ہے۔ صدق رسول اللہ۔ اس کا ظیب سے کیا تعلق مختصر یہ ہے کہ

 علم غیبی کس نمی داند بجز پروردیگار       ہرکہ گوید من بدانم توازو باور مدار

 مصطفےٰ ہر گز نہ گفتے تانہ گفتی جبریئل      جبریئل ہرگز نہ گفتے تانہ گفتے کردگار

 (8 ربیع الاول 1342 ہجری)

علم غیب ایک ایسا مسئلہ ہے

جس پر قرآن مجید او ر احادیث صحیحہ اور کتب فقہ وغیرہ متفقہ طور پر گواہی دے رہی ہے۔ کہ غیب سوائے اللہ وحدہ لاشریک کے کسی کو معلوم نہیں اگرکوئی شخص کسی ولی یا کسی نبی کی نسبت یہ اعتقاد رکھے تو وہ مشرک اور کافر ہوجاتا ہے۔ چنانچہ پیہر عبد القادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔

من يعتقد ان محمد ا صلي الله عليه وسلم يعلم الغيب فهو كافر لان علم الغيب صفة من صفات الله سبحانه (مراۃ (الحقیقہ مصری ص18)

جو شخص یہ عقیدہ رکھے۔ کہ رسول اللہ ﷺ غیب جانتے ہیں۔ وہ کافر ہے اس لئے کہ غیب کا جاننا اللہ تعالیٰ کی صفتوں میں سے ایک صفت ہے۔ (از مولانا نور حسین صاحب گھر جاکھی اہل حدیث سوہدرہ نمبر 16۔ 24۔ اکتوبر 1950ء)

الجواب از حضرت العلامہ مولانا ابو القاسم صاحب بنارسی رحمۃ اللہ علیہ

ایسی بہت ساری حدیثں ہیں۔ جن سے صاف ثابت ہوتا ہے۔ کہ آپﷺ عالم الغیب نہ تھے۔

1۔ عن ام العلاء قالت قال النبي صلي الله عليه وسلم والله لا ادري وانا رسول الله صلي الله عليه وسلم ما يفعل بي ولا بكم رواه البخاري (مشکواۃ باب البکاش ،والخوف ص 448)

2۔ صحیح مسلم ج 1 ص 146 میں ہے کہ ایک یہودی نے چند باتیں آپ ﷺ سے دریافت کیں تو آپ نے جواب دے کر صحابہ سے ارشاد فرمایا۔ لقد سالني هذا عن الذي سالني عنه ومالي علم بشئ منه حتي اتاني الله به معلوم ہوا کہ اللہ کے بتلانے سے آپ کو علم ہوا۔

3۔ ابو دائود میں ہے کہ آپ ﷺ نے ایک بار جوتا پہن کر نماز پڑھائی اس میں گندگی تھی۔ آپ کو اس کا علم نہ تھا۔ جب نماز میں جبرئیل ؑ نے بتایا تو آپ نے اسے اُتارا۔ قال ان جبرئيل ا اناني فاخبرني ان فيها قزرا الخ (ابودائود۔ مطبوعہ مصر ص 66 ج1)

ابن ماجہ میں ہے۔ مسعود کی بیٹی عفراء نے کہا کہ آپﷺ میرے یہاں میری شادی کی صبح کوتشریف لائے۔ لڑکیاں گارہی تھیں۔ انہوں نے اپنے شعروں میں کہہ دیا وفينا نبي يعلم ما في غد تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا! اما هذا فلا تقولوه ما يعلم ما في غد الا الله آپﷺ نے اپنے علم غیب کی خود نفی کر دی ۔

عن جابر سمعت النبي صلي الله عليه وسلم يقول قبل ان يموت بشهر تسالوني عن الساعة وانما علمها عند الله الخ (رواہ مسلم۔ مشکواۃ ص 472 باب قرب الساعۃ) قیامت کا علم آپ ﷺ کو تا وفات نہ ہوا۔

6۔ قیامت میں آپﷺ سے کہا جائے گا۔ انك لا تدري ما احدثوا بعدك (بخاری ص 665 ج2)

7۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا ہار سفر میں گم ہوگیا۔ آپﷺ کو پتہ نہ تھاکہ کہاں سے گراہے۔ (بخاری تمیم)

8۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگی 37 دن تک وحی بند رہی آپﷺ کو پتہ نہ تھا کہ واقعہ کیا ہے۔ ؟آپﷺ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرماتے ہیں۔ ان كنت الممت بذنب فاستغري الله وتوبي اليه (بخاری ص 698 جلد 2)

9۔ صحیح مسلم میں ہے کہ آپﷺ نے انصار کو تابیر نحل سے منع فرمایا اس سے پھل کم پیدا ہوا۔ اس بات کا آپﷺ کو علم نہ تھا۔ آپﷺ نے خود فرمایا۔ انتم اعلم بامور دنياكم (ج2 ص162)

10۔ آپﷺ نے فر مایا میرے پاس جھگڑنے والے آتے ہیں۔ ان کو سچا سمجھ کر ان کے حق میں فیصلہ دے دیتا ہوں۔ (بخاری ص 165 جلد 2) معلوم ہوا کہ اصل حقیقت کا آپ ﷺ کو علم نہ ہوا تھا۔ واللہ اعلم بالصواب (ارسال کردہ مولانا جھندے نگری)

 


فتاویٰ  ثنائیہ

جلد 01 ص 340-343

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ