سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(132) تقویت الایمان پر ایک اعتراض مع جواب

  • 5874
  • تاریخ اشاعت : 2013-07-24
  • مشاہدات : 1913

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
مولانا محمد اسماعیل شہید نے اپنی کتاب تقویت الایمان فصل پہلی فی الاجتناب عن الشرک میں لکھا ہے۔ کہ ہر مخلوق چھوٹا ہو یا بڑا وہ اللہ کی شان کے آگے چمار سے بھی زیادہ ذلیل ہے۔ کیا اس''ہر مخلوق'' کے لفظ انبیاء کرام و اصحاب عظام و اولیاء زی شان داخل ہیں یا نہیں؟ اگر داخل ہیں تو اس سے اہانت انبیاء علیم السلام و صالحین کام کی ثانت ہوتی ہے یا نہیں؟ اور انبیاء کرام کی اہانت کرنے و الا کون ہوتا ہے۔ ؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

مولانا محمد اسماعیل شہید نے اپنی کتاب تقویت الایمان فصل پہلی فی الاجتناب عن الشرک میں لکھا ہے۔ کہ ہر مخلوق چھوٹا ہو یا بڑا وہ اللہ کی شان کے آگے چمار سے بھی زیادہ ذلیل ہے۔ کیا اس''ہر مخلوق'' کے لفظ انبیاء کرام و اصحاب عظام و اولیاء زی شان داخل ہیں یا نہیں؟ اگر داخل ہیں تو اس سے اہانت انبیاء علیم السلام و صالحین کام کی ثانت ہوتی ہے یا نہیں؟ اور انبیاء کرام کی اہانت کرنے و الا کون ہوتا ہے۔ ؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ساری عبارت سامنے رکھی جائے۔ تو معنی صحیح وتے ہیں۔ مولانا فرماتے ہیں خدا کے ساتھ شرک کرناایسا ہے۔ جیسا کسی بادشاہ کا تاج اس کی رعیت میں سے چمار کے ساتھ رکھ دینا۔ یہ نسبت فرماتے ہیں۔ سب مخلوق چھوٹی اور بڑی خدا کی شان کے آگے چمارسے بھی زیاددہ زلیل ہے۔ یعنی چمار بادشاہ کی شان کے سامنے بہت کم حیثیت ہے۔ تاہم انسان ہونے کی حیثیت سے بادشاہ کے برابر ہے۔ لیکن انسان چھوٹے اور بڑے اور خدا کے ساتھ ہم کفوی کی حیثیت نہیں رکھتے کیونکہ   وَلَم يَكُن لَهُ كُفُوًا أَحَدٌ ﴿٤

اس کلام ہدایت التیام سے حضرات انبیاء کرام اور اولیاء عظام کی توہین یا منقصمت منظور نہیں۔ بلکہ شان خدا ارفع بتانی مقصود ہے۔ وانه تعالي جد ربنا کے یہی معنی ہیں۔ (اہل حدیث امرتسر ص13 9 دسمبر 1932ء؁)

 


فتاویٰ  ثنائیہ

جلد 01 ص 294

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ