سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(47) کمپنی کو بغیر اطلاع چھوڑنےپر ایک ماہ کی تنخواہ کی ضبطگی کا حکم

  • 5789
  • تاریخ اشاعت : 2013-07-18
  • مشاہدات : 567

سوال




السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
میں اگر ایک کمپنی میں جوئیننگ دوں تو وہ ایک معاہدہ سائن کرواتے ہیں کہ، اگر آپ بغیر بتائے ایک ماہ پہلے چلے گئے تو آپ ہمیں ایک ماہ کی تنخواہ واپس کریں گے۔اس معاہدے کے بارہ میں وہ یہ دلیل رکھتے ہیں کہ جب آپ بغیر بتائے جاتے ہیں تو-آپ جس پراجیکٹ پر کام کر رہے ہوں گے، اس بارہ میں ہمیں نیا بغیر ٹرینڈ بندہ رکھنا پڑے گا ، جس کا ہمیں نقصان ہو سکتا ہے،-اگر آپ جانے سے پہلے بتا کر جائنگے تو آپ اپنے پراجیکٹ کا معاملہ اگلے بندے کے سپرد کر دیں گے۔-بغیر بتائے جانے سے، کمپنی میں کوئی بھی کسی وقت ایسا کرکے چلتے پراجیکٹس کا نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔ وغیرہ وغیرہ
1-کیا ایسا معاہدہ کرنا شرعی لحاظ سے درست ہے؟
2- اگر یہ معاہدہ دونوں فریقین میں باہیمی رضامندی سے طے پا جائے ، تو کمپنی کا معاہدے کے تحت نقصان یا بغیر نقصان ہوئے ، ایک ماہ کی تنخواہ روکنا جائز ہے۔؟
برائے مہربانی شرعی دلیل سے وضاحت فرمائیں۔؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

میں اگر ایک کمپنی میں جوئیننگ دوں تو وہ ایک معاہدہ سائن کرواتے ہیں کہ، اگر آپ بغیر بتائے ایک ماہ پہلے چلے گئے تو آپ ہمیں ایک ماہ کی تنخواہ واپس کریں گے۔اس معاہدے کے بارہ میں وہ یہ دلیل رکھتے ہیں کہ جب آپ بغیر بتائے جاتے ہیں تو-آپ جس پراجیکٹ پر کام کر رہے ہوں گے، اس بارہ میں ہمیں نیا بغیر ٹرینڈ بندہ رکھنا پڑے گا ، جس کا ہمیں نقصان ہو سکتا ہے،-اگر آپ جانے سے پہلے بتا کر جائنگے تو آپ اپنے پراجیکٹ کا معاملہ اگلے بندے کے سپرد کر دیں گے۔-بغیر بتائے جانے سے، کمپنی میں کوئی بھی کسی وقت ایسا کرکے چلتے پراجیکٹس کا نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔ وغیرہ وغیرہ

1-کیا ایسا معاہدہ کرنا شرعی لحاظ سے درست ہے؟

2- اگر یہ معاہدہ دونوں فریقین میں باہیمی رضامندی سے طے پا جائے ، تو کمپنی کا معاہدے کے تحت نقصان یا بغیر نقصان ہوئے ، ایک ماہ کی تنخواہ روکنا جائز ہے۔؟

برائے مہربانی شرعی دلیل سے وضاحت فرمائیں۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

١۔ ایسا معاہدہ کرنا شرعی طور پر ناجائز ،اور ظلم پر مبنی ہے،کیونکہ آپ نے جس ماہ کام کیا ہے اس کی آپ کو تنخواہ ملنی چاہئے،آپ کمپنی کے نفع ونقصان کے ذمہ دار نہیں ہیں۔

نبی کریم کا فرمان ہے۔

«أعطوا الأجير أجره قبل أن يجف عرقه» رواه ابن ماجة 2/817 وهو في صحيح الجامع 1493.

مزدور کو اس کا پسینہ خشک ہونے سے پہلے پہلے مزدوری دے دو۔

ھذا ما عندی واللہ أعلم بالصواب

فتاویٰ  ثنائیہ

جلد 01 

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ

ABC