سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(35) شرک کی جامع مانع تعریف تحریر فرمایئں

  • 5777
  • تاریخ اشاعت : 2013-07-13
  • مشاہدات : 836

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
کلام مجید میں باکثرت آیات شرک کی رد میں وارد ہیں۔شرک کےلئے اللہ تعالیٰ نے سخت وعید  بیان فرمائی ہے۔ تلاوت کے وقت طبعیت خائف ہوتی ہے کہ اس مرض سے نجات کیسے ہوگی مہربانی فرما کر شرک کی جامع  مانع تعریف تحریر فرمایئں۔(محمد غنی فضل الرحمٰن از جہلم شہر)

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کلام مجید میں باکثرت آیات شرک کی رد میں وارد ہیں۔شرک کےلئے اللہ تعالیٰ نے سخت وعید  بیان فرمائی ہے۔ تلاوت کے وقت طبعیت خائف ہوتی ہے کہ اس مرض سے نجات کیسے ہوگی مہربانی فرما کر شرک کی جامع  مانع تعریف تحریر فرمایئں۔(محمد غنی فضل الرحمٰن از جہلم شہر)


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

شرک کی جامع مانع تعریف اور اس کے اقسام سمجھنے کےلئے مولانا اسماعیل شہید کی کتاب تقویۃ الایمان پڑھیے۔(اہل حدیث جلد  24 نمبر 10)

تشریح

حدیث شریف میں آیا ہے۔بد ء الاشلا م غريبا وسبعود كما بداء فطوبي للغربا ء الذين يصلحون ما افسد الناس من سنتي الحديث

یعنی خدا کا دین اسلام شروع شروع مسافرانہ روش میں چلا ہے۔ترقی کے بعد پھر مسافرانہ صورت میں ہوجائے گا۔خوشخبری ہو ان مسافروں کو جو میری سنت میں لوگوں نے بگاڑ  کیا ہوگا۔ اس کی وہ اصلاح کریں گے۔ اس حدیث شریف میں اسلام کی زندگی کے چار مراتب فرمائے ہیں۔اور پہلی حالت بے کسی کی تھی جو ہجرت سے قبل مکہ معظمہ میں گزری ۔دروسرے درجے میں اسلام کی ترقی کی طرف اشارہ  ہے۔۔تیسرے مرتبے میں پھر اصل اسلام کی کسمپرسی کا زکر ہے۔یعنی اصل اسلام خود اہل اسلام میں نسیا منشیا ہو کر توحید وسنت کی جگہ شرک وکفر لے لیں گے۔اور سنت پر بدعات غالب آجایئں گی۔اصل اسلام بتانے والے کو اس طرح دیکھا جائے گا۔ جس طرح پہلے طبقہ کے مسلمانوں کو دیکھا جاتا تھا۔چوتھے درجہ میں ان مصلحین کی طرف اشارہ ہے۔ جو اس تیسرے درجے میں پیدا ہوکر مفسدین کے فساد کی اصلاح کریں گے۔اس ھدیث کے واقعات سے تصدیق ہوتی ہے۔ پہلے درجے کی صحت تو مکہ معظمہ  کے ایام میں ہوئی۔دوسرے درجے کا معائنہ مدینہ شریف میں اور زمانہ خلافت اور اس کے بعد بھی کچھ مدت تک ہوتا رہا ہے۔تیسرے درجے کا ظہور ہندوستان میں شاہی زمانہ میں کمال کو پہنچ گیا۔ہر قسم کی پرستش شروع ہوگئی۔ہر طرح کی بدعات رواج پاگئیں یہاں تک کہ اولیاء اللہ کی پہچان یہ ہوئی کہ شراب کی مستی میں ان کی آنکھیں مست ہوں۔زلفیں لمبی لمبی معطر ہوں۔ جس راستے سے چلیں راستہ مہک جائے عام طور پر آوازے کسے جاتے ہیں۔

اگر باب اجابت بند ہو جائے تو کیا ڈر ہے۔       کھلا رہتا ہے دروازہ معین الدین چشتی کا

یہ بھی کہا جاتا ہے۔

اللہ  کے  پلے میں  وحدت  کے سوا  کیا ہے۔

جو  کچھ ہمیں لینا ہے لے لیں  گے محمد ﷺسے

جب یہ حالت کمال کو پہنچ گئی تو حسب پیشگوئی رسالت پناہی علیہ الصلواۃ و اسلام دہلی کے خاندان علمیہ میں ایک روشن چراغ مولانا اسماعیل شہید پیدا ہوئے جنھوں نے کڑاکے دار آواز سے مسلمانوں کو  اصل دین اسلام بتایا۔ اس کے جواب میں مسلمانوں نے کیا کہا  اور کیا برتائو کیا۔اس کی تفصیل شہید مرحوم  کی سوانح عمری ''حیات طیبہ''میں دیکھیے۔جو دفتر اہل حدیث 1سے مل سکتی ہے۔ اس تحریک میں ممدوح نے کتاب تقویۃ الایمان لکھی۔جس میں محض قرآن وحدیث کے آیئنے میں اسلام کی تصویر دیکھائی اس کتاب کے مواعظ کا اہل دہلی بلکہ اہل ہند پر بہت اچھا اثر ہوا مولانا حالی مرحؤم نے اصلاح عرب کے متعلق ''مسلک حالی ''میں ایک بند لکھا۔جو ایک لفظ کی تبدیلی سے تحریک اسماعیل پر پورا صادق آتا ہے۔

وہ بجلی کا کڑکا تھا یا صوت ہادی          زمین ہند کی جس نے ساری ہلا دی

نئی اک لگن سب کے دل میں لگا دی اک آواز میں سوتی بستی جگا دی

پڑا یہ غل ہر طرف پیغام حق سے

 کہ گونج اٹھے دشت و جبل نام حق سے

خدا کے فضل سے کتاب تقویۃ الایمان اتنی مقبول ہوئی کہ آج اسلامی کتب میں بعد کتاب اللہ کے یہی کثیر الاشاعت ہے۔اس کے برابر کوئی کتاب اتنی کثیر الاشاعت نہیں۔توحید پسند علماء نے اس کو بہت پسند کیا اہل حدیث کے علاوہ سرکردہ علماء احناف مولانا رشید  احمد گنگوہی ۔کے الفاظ یہ ہیں۔

''کتاب تقویۃ الایمان کے نہات عمدہ اور سچی کتاب اور موجب قوت و اصلاح ایمان کی ہے۔ اور قرآن وحدیث کا مطلب پورا اس میں ہے کہ اس کا موئلف ایک مقبول بندہ تھا۔ص 45۔مولوی اسماعیل صاحب عالم و متقی بدعت کے اکھاڑنے والے اور سنت کے جاری کرنے والے اور قرآن وحدیث پر پورا عمل کرنے والے اور خلق اللہ کو ہدایت کرنے والے تھے۔اور تمام عمر اسی حال میں رہے اور آخر کار فی سبیل اللہ جہاد میں کفارکے ہاتھ سے شہید ہوئے۔پس جس کا ظاہر حال ایسا ہووے وہ ولی اللہ اور شہید ہے۔حق تعالیٰ فرماتا ہے۔  

إِن أَولِياؤُهُ إِلَّا المُتَّقونَ وَلـٰكِنَّ أَكثَرَ‌هُم لا يَعلَمونَ ﴿٣٤

اور کتاب تقویۃ الایمان بہت عمدہ کتا  ب ہے۔اور  رد شرک و بدعت میں لاجواب ہے۔استدلال اس کے  بالکل کتاب اللہ اور احادیث سے ہیں۔اس کا رکھنا اور  پڑھنا اور عمل کرنا اعین اسلام ہے۔ اور موجب اجر کا ہے اس کے رکھنے کو جو برا کہتا ہے۔وہ فاسق اور بدعتی ہے۔اگر کوئی اپنے جہل سے اس کتاب کی خوبی نہ سمجھے۔ تو اس کا قصور فہم ہے۔کتاب اور مولف  کتاب کی کیا تقصیر بڑے بڑے عالم اہل حق اس کو پسند کرتے ہیں۔اور رکھتے ہیں۔اور اگر کسی گمراہ نے اس کو برا کہا تو وہ خود ضال اور مضل ہے۔(رشید احمد گنگوہی عفی عنہ۔(فتاویٰ رشیدیہ ص 122)

مولانا گنگوہی نے تقویۃ الایمان کو جن برا جاننے والوں کا اجمال زکر کیا ہے۔ان میں ایکمولوی نعیم الدین صاحب مراد آبادی ہیں۔ آپ نے ایک حال میں ایک کتاب موسوم''اطیب الکلام''بتردید تقویۃ الایمان''شائع کی ہے۔مجھے یہ کتاب ملی تو مجھے یہ خیال ہوا  کہ شہید مرحؤم کے ساتھ ہوکر مجاہدین کے گھوڑوں کی لید اٹھانے کا موقع تو نہیں ملا ان کی کتاب کی تایئد کر کے اتبعوھم باحسان میں شامل ہوجائوں۔

فی الجملہ نسبتے بتوکافی بود مرا            بلبل ہمیں کہ قافیہ گل شود بس است

اس بارے میں میں نے اپنے مخلص دوست حافظ عزیز الرحمٰن صاحب مراد آبادی سے مشورہ لیا۔کیونکہ موصوف کو مرادف آبادی کی حیثیت سے اور تجربہ کار ہونے کی وجہ سے میں اس امر کا اہل  جانتا تھا۔کہ ان سے مشورہ لوں موصوف نے تمنا کی کہ جواب کی خدمت مجھے سپر دکی جائے۔تاکہ میں بھی شہید مرحؤم کے گھوڑے کے پیچھے چلنے کے قابل ہوجائوں اگرچہ میں اس لائق نہیں ہوں۔

پہنچ سکتا ہے کب ہم سے ناتوانوں کا غبار تیز جاتی ہے بہت ان کی سواری ان دنوں

میں نے اس نیت سے موصوف کی درخواست کو قبول کیا کہ آپ لکھیں گے۔اور میں بذریعہ اخبار شائع کروں گا۔تو دونوں شہید قدس سرہ کے جہادی گھوڑوں کے ساتھ اس طرح دایئں بایئں  چلیں گے جس طرح شہید خود اور مولوی عبد الحئی مرحؤم دہلوی سید احمد صاحب رائے بریلوی کے گھوڑے کی دونوں طرف چلا کرتے تھے۔

نوٹ

ان دونوں حضرات کا زکر کرتے ہوئے میدان  جہاد میں ان کی تگودود کا تصور اور بدقسمتی سے اس میدان مں اپنی غیر حاضری کا خیال کر کے میں  زاروقطار رو رہاہوں۔میری دونوں آنکھیں آنسووں سے  ڈوبی ہوئی ہیں۔خدا کرے یہ  پانی آتش دوزخ مجھ پر  سرد کرنے میں کام آئے۔آہ

عدم کے جانے والو بزم جاناں  تک اگر پہنچو        ہمیں بھی یاد رکھنا زکر گر دربار میں آئے

جواب اگلے پرچے سے شروع ہوگا ان شاء اللہ (ناچیز ابو الوفا 18 زی الحجہ 1351ھ؁)

مولانا حافظ عزیز الدین مرحوم کا مضمون بنام ''اکمل البیان فی تایئد تقویۃ الایمان الجواب الطیب البیان کافی عرصہ تک اخبار اہل حدیث میں چھپتا رہا۔پھر بھی آٹھواں حصہ شائع نہ ہوسکا۔کہ انقلاب زمانے نے سب کچھ منقلب کر دیا۔الحمد للہ کے اس کتاب کا مسووہ ان کے صاحب ذادے جمیل ااحمد صاھب کے پاس محفوظ ہے۔اللہ تعالیٰ اس کے لئے سامان  اشاعت مہیا فرمائے۔آمین

افسوس یہ کہ  آج یہ سب بزرگ بزم توحید کو سونا کر گئے۔اللہ تعالیٰ ان کو فردوزس بریں میں اعلیٰ مقام نصیب کرے۔اور ناقل کو بھی ان کے نقوش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین(راز)

1۔اب غالبا دفتر اہل حدیث سوہدرہ یا دفتر اہل حدیث دہلی سے مل سکے (فقط ر از)


فتاویٰ  ثنائیہ

جلد 01 ص 89-93

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ