سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(24) ایام حیض میں چھوڑی ہوئی نمازوں کا حکم

  • 5766
  • تاریخ اشاعت : 2013-07-13
  • مشاہدات : 920

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

نماز فرض عین ہے، اس سے کسی صورت میں بھی چھٹکارہ نہیں ہے۔ کھڑے ہوکر نہیں پڑھ سکتے ہیں تو بیٹھ کر پڑھیں اور بیٹھ کر نہیں تو لیٹ کر، بہر صورت نماز کا ادا کرنا فرض عین ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ایام حیض میں چھوڑی ہوئی نماز کی قضا کرنا لازم ہے یا نہیں ۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

ایامِ حیض میں عورت کے لئے نماز پڑھنا شرعاً ناجائز ہے‘ یہی مذہب تمام صحابہ کرام‘ تابعین‘ تبع تابعین اور ائمہ مجتہدین کا ہے۔رہایہ سوال کہ یہ ممانعت کیوں ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ طہارت نماز کی شرائط میں سے ہے ۔ ناپاکی کی حالت میں نماز ادا نہیں کی جا سکتی۔ اس کے لیے پاک ہونا ضروری ہے ۔ حیض کی حالت ناپاکی کی ایک حالت ہے۔ خواتین کی یہ حالت چونکہ اختیاری نہیں ہوتی اس لیے انہیں نماز نہ پڑ ھنے کی رعایت دی گئی ہے۔اور ان چھوڑی گئی نمازوں کی قضا بھی نہیں ہے،ہاں البتہ اگر روزے چھوٹ گئے ہوں تو ان کی قضا کی جائے گی۔

«عن معاذة﷜ قالت: سالت عائشة ﷜‘ فقلت: ما بال الحائض تقضی الصوم ولاتقضی الصلوة؟ فقالت: احروریة انتِ؟ فقلت: لست بحروریة‘ ولکن اسئل۔ قالت: کان یصیبنا ذلک فنومر بقضاء الصوم ولانومر بقضاء الصلوة“» (صحیح مسلم ج:۱‘ ص:۱۵۳)

ترجمہ:۔حضرت معاذہ﷜ سے روایت ہے کہ میں نے حضرت عائشہ﷜ سے پوچھا : کیا وجہ ہے کہ حائضہ عورت روزوں کی قضا کرتی ہے اور نماز کی قضا نہیں کرتی؟ حضرت عائشہ﷜ نے فرمایا: کیا تو حروریہ (خوارج سے) ہے؟ میں نے کہا: میں تو حروریہ نہیں ہوں‘ بلکہ جاننا چاہتی ہوں۔ حضرت عائشہ﷜ نے فرمایا: ہمیں حیض آتا تو ہمیں روزوں کی قضا کا حکم دیا جاتا اور نماز کی قضا کا حکم نہیں دیا جاتاتھا“۔

ھذا ما عندی واللہ أعلم بالصواب

فتاویٰ  ثنائیہ

جلد 01

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ