سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(18) بدعتی امام کے پیچھے نماز کا حکم

  • 5760
  • تاریخ اشاعت : 2013-07-11
  • مشاہدات : 1209

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ہمارے آفس سے کچھ دوری پر بریلویوں کی مسجد ہے ، وہاں بآواز بلند یارسول اللہ کے نعرے لگائے جاتے ہیں، خودساختہ خطبہ و کھڑے ہوکر سلام پڑھنے جیسے کام کیے جاتے ہیں۔؟کیا اس مسجد میں نماز جمعہ ادا کی جا سکتی ہے یا نہیں۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

امام بخاریؒ اپنی صحیح میں باب قائم کرتے ہیں کہ ’’بَاب إِمَامَةِ الْمَفْتُونِ وَالْمُبْتَدِعِ‘‘ (مفتون وبدعتی کی امامت کا بیان) اور اس کے تحت فرماتے ہیں: ’’وَقَالَ الْحَسَنُ: صَلِّ وَعَلَيْهِ بِدْعَتُهُ‘‘ (اور بدعتی کے متعلق امام حسن بصری " فرماتے ہیں: کہ تم اس کے پیچھے نماز پڑھ لو اس کی بدعت کا وبال اسی پر ہے)۔

«عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ خِيَارٍ، أَنَّهُ دَخَلَ عَلَى عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَهُوَ مَحْصُورٌ، فَقَالَ: إِنَّكَ إِمَامُ عَامَّةٍ، وَنَزَلَ بِكَ مَا نَرَى، وَيُصَلِّي لَنَا إِمَامُ فِتْنَةٍ وَنَتَحَرَّجُ، فَقَالَ: الصَّلَاةُ أَحْسَنُ مَا يَعْمَلُ النَّاسُ، فَإِذَا أَحْسَنَ النَّاسُ فَأَحْسِنْ مَعَهُمْ، وَإِذَا أَسَاءُوا فَاجْتَنِبْ إِسَاءَتَهُمْ»

([5]) (عبید بن عدی بن خیار فرماتے ہیں کہ وہ سیدنا عثمان بن عفان ؓ پر داخل ہوئے جبکہ وہ اپنے گھر میں محصور تھے، اور عرض کی: آپ ہی امیر المومنین ہیں اور آپ پر جو بیت رہی ہے وہ آپ کو معلوم ہے، اور ہمیں فتنے بازوں کا امام نماز پڑھا رہا ہے جبکہ ہم اس کے پیچھے نماز پڑھنے میں حرج اور گناہ محسوس کررہے ہیں۔ آپ نے فرمایا: لوگ جو کام کرتے ہیں ان میں سے سب سے بہترین کام نماز ہی تو ہے، لہذا اگر لوگ یہ بہترین کام کریں تو تم بھی ان کے ساتھ یہ بہترین کام کرو، لیکن جب وہ برائی کریں تو ان کی برائی سے کنارہ کش رہو) «وَقَالَ الزُّبَيْدِيُّ: قَالَ الزُّهْرِيُّ: لَا نَرَى أَنْ يُصَلَّى خَلْفَ الْمُخَنَّثِ إِلَّا مِنْ ضَرُورَةٍ لَا بُدَّ مِنْهَا» (امام زبیدیؒ فرماتے ہیں کہ امام زہریؒ نے فرمایا: ہم مخنث (ہیجڑے) کے پیچھے نماز پڑھنے کے قائل نہيں الا یہ کہ کوئی ایسی حالت ہوجائے کہ اس کے پیچھے نماز پڑھے بغیر کوئی چارہ نہ ہو)

حافظ ابن حجرؒ فتح الباری میں فرماتے ہیں:

"وفي هذا الأثر الحض على شهود الجماعة ولا سيما في زمن الفتنة لئلا يزداد تفرق الكلمة ، وفيه أن الصلاة خلف من تكره الصلاة خلفه أولى من تعطيل الجماعة " (اس اثر میں جماعت میں حاضری کی ترغیب ہے خصوصاً فتنے کے زمانے میں تاکہ مزید تفرقہ نہ ہو، اس میں اس بات کی دلیل ہے کہ ایسے امام کے پیچھے نماز پڑھنا جس کے پیچھے نماز پڑھنے کو آپ پسند نہیں کرتے بہتر ہے اس بات سے کہ باجماعت نماز پڑھنے ہی کو چھوڑ دیا جائے) مخنث کے متعلق جو فرمایا گیا کہ اگر اس کے سوا چارہ نہ ہو تو اس کی صورت یہ ہے کہ وہ حاکم ہو یا حاکم کی طرف سے مقرر ہو تو ایسے وقت میں فتنے کے امام کی طرح اس کے پیچھے نماز جائز ہے۔

شیخ ابن عثیمین ؒ اس حدیث کی شرح میں فرماتے ہیں:

امام فتنہ سے مراد وہ امام ہیں جنہوں نے خلیفۂ مسلمین سیدنا عثمان بن عفان ؓ کے خلاف خروج کیا تھا اور ان کے گھر کا محاصرہ کردیا تھا۔ بعد ازیں مسجد پر قبضہ کرکے جماعت کرانے لگےاور لوگوں نے اس میں حرج محسوس کیا کہ ان کی اقتداء میں نماز ادا کریں جس پر عثمان نے کہا: «الصَّلَاةُ أَحْسَنُ مَا يَعْمَلُ النَّاسُ» (نماز تو وہ بہترین عمل ہے جو لوگ کرتے ہیں) یہ نہیں کہا یہ امام احسن الناس (بہترین انسان) ہے(کیونکہ وہ تو گمراہ بدعتی تھا) بلکہ نماز احسن العمل ہے فرمایا۔ «فَإِذَا أَحْسَنَ النَّاسُ فَأَحْسِنْ مَعَهُمْ وَإِذَا أَسَاءُوا فَاجْتَنِبْ إِسَاءَتَهُمْ» (جب یہ اچھا کام کریں توان کے ساتھ یہ اچھا کام کیا کرو، اور جب برائی کریں تو ان کی برائی سے دور رہو) یعنی ان کے ساتھ نماز پڑھ لیا کرو، کیونکہ ان کے پیچھے نماز چھوڑنے سے شر وفساد وفتنہ مزید پھیل جائے گا۔ ۔۔۔ یہی مطابقت ہے اس باب سے کہ یہ آئمہ امام فتنہ تھے جنہوں نے سیدنا عثمان ؓ پر خروج کیا تھا۔ اور امام پر خروج کرنا افسد(مفسد ترین )،خبیث ترین اور بدترین بدعت ہے۔ امت کی بربادی اسی حکمرانوں پر خروج کےسبب ہی تو ہوئی ہے۔عجیب بات ہے کہ جو(خوارج) آئمہ(حکمرانوں) پر خروج کرتے ہیں ان کا ظاہر دین داری پر مبنی ہوتا ہے، وہ نماز کا خیال رکھتے ہیں اور اصلاح کے خواستگار نظر آتے ہیں، بلکہ آپﷺنے فرمایا کہ صحابہ ان کے نمازوں کے سامنے اپنی نمازوں کو حقیر جانیں گے اور ان کی تلاوت قرآن کے آگے اپنی تلاوت قرآن کو حقیر تصور کریں گے لیکن ان کا ایمان(العیاذ باللہ) ان کے حلقوں سے نیچے نہیں اترے گا۔اللہ تعالی ہی سے عافیت کا سوال ہے۔

حاصل کلام یہ ہے کہ بدعتی کے پیچھے نماز پڑھی جائے گی۔ الا یہ کہ بدعتی بدعت مکفرہ والا ہو تو اس کی اپنی نماز صحیح نہیں۔ اور اگر ہمیں فتنے کا اندیشہ نہ ہو تو ہم اس کے پیچھے نماز نہیں پڑھیں گے۔لیکن دوسری صورت میں کہ اگر امام بدعت غیر مکفرہ والا بدعتی ہو اور ہم اس کے پیچھے نماز پڑھ لیں تو نماز صحیح ہے(اسے لوٹایا نہیں جائے گا) جبکہ مکفرہ والے کے پیچھےنماز درست نہیں(اور اسے لوٹانا پڑے گا)۔

ھذا ما عندی واللہ أعلم بالصواب

فتاویٰ  ثنائیہ

جلد 01

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ