سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(05) نافرمان لڑکے کا حکم

  • 5747
  • تاریخ اشاعت : 2013-07-10
  • مشاہدات : 507

سوال




السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
اگر کوئی لڑکا اپنے والد کو گالی دے اور مارنے کے لئے کھڑا ہو جائے تو اس کا کیا حکم ہے۔؟

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اگر کوئی لڑکا اپنے والد کو گالی دے اور مارنے کے لئے کھڑا ہو جائے تو اس کا کیا حکم ہے۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اللہ تعالی ہمیں والدین کا فرمانبردار اور خدمت گا بنائے اور ان کی نافرمانی سے بچائے،والدین کی نافرمانی درحقیقت اللہ کی نافرمانی ہے۔

والدین کی نافرمانی حرام اور اکبر الکبائر گناہوں میں شمار ہوتی ہے،اور اللہ تعالی نے اس کو شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ قرار دیا ہے۔ارشاد باری تعالی ہے۔ۛ

﴿وَقَضٰی رَبُّکَ أَلاَّ تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِیَّاہُ وَبِالْوَالِدَیْنِ إِحْسَانًا إِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَکَ الْکِبَرَ أَحَدُھُمَآ أَوْ کِلٰھُمَا فَـلَا تَقُلْ لَّھُمَآ أُفٍّ وَّلَا تَنْھَرْھُمَا وَقُلْ لَّھُمَا قَوْلًا کَرِیْمًا o وَاخْفِضْ لَھُمَا جَنَاحَ الذُّلِّ مِنَ الرَّحْمَۃِ وَقُلْ رَّبِّ ارْحَمْھُمَا کَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًا ﴾الاسراء: ۲۳۔ ۲۴

’’ اور تیرا پروردگار صاف صاف حکم دے چکا ہے کہ تم اس کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرنا، اگر تیری موجودگی میں ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان کے آگے اف تک نہ کہنا، نہ انہیں ڈانٹ ڈپٹ کرنا بلکہ ان کے ساتھ ادب و احترام سے بات چیت کرنا اور شفقت و محبت کے ساتھ ان کے سامنے تواضع کا بازو پست رکھنا اور دعا کرتے رہنا کہ اے میرے پروردگار! ان پر ویسا ہی رحم کر جیسا انہوں نے میرے بچپن میں میری پرورش کی ہے۔ ‘‘

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

« أَ لَا أُنَبِّئُکُمْ بِأَکْبَرِ الْکَبَائِرِ؟ … ثَلَاثًا… قُلْنَا بَلٰی یَارَسُوْلَ اللّٰهِ صلی اللہ علیه وسلم، قَالَ أَلْاِشْرَاکُ بِاللّٰهِ، وَعُقُوْقُ الْوَالِدَیْنِ… وَکَانَ مُتَّکِئًا فَجَلَسَ فَقَالَ: أَ لَا وَقَوْلُ الزُّوْرِ وَشَھَادَۃُ الزُّوْرِ، أَ لَا وَقَوْلُ الزَّوْرِ وَشَھَادَۃُ الزُّوْرِ فَمَا زَالَ یَقُوْلُھَا حَتَّی ثُلْثُ: لَا یَسْکُتُ»

راجع: الجامع لأحکام القرآن للقرطبي، ص: ۱۰/۱۵۵۔۱۶۰، ۱۴/۴۴، ۵/۱۲۰، وفتح الباري للعسقلاني، ص: ۱۰/۴۰۳۔۴۰۶، ۵/۶۸، وفیض القدیر للمناوي، ص: ۲/۲۲۷، ۴/۳۳۔

’’ کیا میں تمہیں کبیرہ گناہوں سے میں سے زیادہ بڑے گناہوں کی خبر نہ دوں؟ (آپ نے اس بات کو تین بار دہرایا) ہم نے کہا کیوں نہیں اے اللہ کے رسول! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (وہ یہ ہیں) اللہ کے ساتھ شرک کرنا اور والدین کی نافرمانی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ٹیک لگائے ہوئے تھے پھر آپ بیٹھ گئے فرمایا خبردار! جھوٹی بات اور جھوٹی گواہی خبردار! اور جھوٹی بات اور جھوٹی گواہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات تین دفعہ فرمائی اور خاموش نہیں ہوتے تھے۔‘‘

رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

« رَغِمَ أَنْفُه ثُمَّ رَغِمَ أَنْفُه ثُمَّ رَغِمَ أَنْفُه قِیلَ: مَنْ یَا رَسُولَ اللّٰهِ؟ قَالَ مَنْ أَدْرَکَ وَالِدَیْه عِنْدَ الْکِبَرِ أَحَدَهُمَا أَوْ کِلَیْهمَا ثُمَّ لَمْ یَدْخُلِ الْجَنَّة))

أخرجہ مسلم في کتاب البر، باب رغم من ادرک ابویہ او احدھما عند الکبر… رقم : ۶۵۱۱۔

’’ اس شخص کی ناک آلود ہو، پھر اس شخص کی ناک خاک آلود ہو، پھر اس شخص کی ناک خاک آلود ہو، پوچھا گیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! کس کی؟ جواب دیا: جس نے اپنے ماں باپ دونوں کو یا کسی ایک کو بوڑھا پایا پھر (ان کی خدمت کرکے) جنت میں نہ گیا۔ ‘‘

نیک بخت ہے وہ انسان جو والدین کی خدمت کے موقعہ کو غنیمت سمجھنے میں جلدی کرتا ہے کہ کہیں ان کی وفات کی وجہ سے یہ موقعہ ختم نہ ہوجائے اور اسے شرمندگی کا سامنا کرنا پڑے اور بدبخت ہے وہ انسان جو والدین کی نافرمانی کرتا ہے، خاص طور پر وہ جسے خدمت کرنے کا حکم پہنچ چکا ہے۔

’’ تو ان کے آگے اف تک نہ کہنا ‘‘ … اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی ایسی بات نہ کہو جس میں ادنیٰ سی بھی اکتاہٹ ظاہر ہوتی ہو۔

ھذا ما عندی واللہ أعلم بالصواب

فتاویٰ  ثنائیہ

جلد 01

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ