سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(223) اذان قبر پر بعد دفن میت کے درست ہے یا نہیں

  • 5730
  • تاریخ اشاعت : 2013-07-08
  • مشاہدات : 291

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

 (1)اذان قبر پر بعد دفن میت کے درست ہے یا نہیں ۔ (2) جواب نامہ کفن پر لکھنا اور قل کے ڈھیلے قبر میں رکھنا اس کا حکم ہے۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اذان قبر پر  دینامکروہ اور بدعت قبیحہ ہے کیونکہ آنحضرت ﷺ اور صحابہ رضی اللہ عنہم اور تابعین اور تبع تابعین اور مجتہدین رحمہم اللہ سے ثابت نہیں ،فرمایا رسول خدا ﷺ نے  جو دین میں نئی بات نکالے وہ مردود ہے۔ من احدث فی امرنا اما لیس منہ فھورد کما رواہ البخاری وغیرہ کذا فی المشکوٰۃ اور فقہاء لکھتے ہیں کہ قبر کے نزدیک جوامر معہود سنت سے نہ ہو وہ مکروہ ہے۔ یکرہ[1] عند القبر مالم یعھد من السنۃ والمعہود ھھنا لیس الازیارتہ والدعاء عندہ قائما کذا فی فتح القدیر والبحر والنھر والعالمگیریۃ۔ اور اصرار کرنا مکروہ پر گناہ ہے چنانچہ ملاعلی قاری و طیبی وغیرہ نے لکھا ہے۔ واللہ اعلم       



[1]   قبر کے پاس ہر وہ چیز مکروہ ہے جو سنت کےخلاف ہے۔


فتاوی نذیریہ

جلد 01 ص 689

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ