سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(202) قرآن کا اجرت کے ساتھ تراویح میں سننا جائز ہے یا نہیں؟

  • 5709
  • تاریخ اشاعت : 2013-07-07
  • مشاہدات : 890

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

سننا قرآن کا  اور پڑھنا اجرت کے ساتھ نماز تراویح میں  جائز ہے یا نہیں  ،ایسی تراویح کا ثواب  ہوگا یا نہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

سنناقرآن کا اور پڑھنا اُجرت کے ساتھ نماز تراویح میں  جائز ہے اور ثواب ہوگا۔ عنداللہ الائمۃ الثلاثہ و عامۃ اہل حدیث خلافاً للحنفیہ کما فی الکتب الدینیۃ  ،واللہ اعلم بالصواب۔ (سید محمد نذیر حسین) ( سید محمد عبدالسلام غفرلہ ) (سید محمد ابوالحسن)

ہوالموفق:

بعض ائمہ سلف سے ثابت ہے کہ وہ اجرت کے ساتھ تراویح کاپڑھنا اور سننا جائز نہیں رکھتے تھے۔ امام احمد بن حنبل سے اس امام کے بارے میں  سوال کیاگیا جو لوگوں سےکہے کہ اتنے روپیہ پرتم لوگوں کو رمضان میں  تراویح پڑھاؤں گا  ، آپ نے فرمایا اللہ تعالیٰ سےعافیت کا سوال کرتا ہوں ایسے امام کے پیچھے  کون نماز پڑھے گا ۔ عبداللہ بن مبارک فرماتے ہیں کہ میں  مکروہ سمجھتا ہوں کہ اجرت کے ساتھ نماز پڑھی جائے  اور  فرمایا ڈرتا ہوں کہ ان لوگوں پرنماز کا اعادہ واجب ہو  ،مصعب نے عبداللہ بن معقل کا حکم کیا کہ رمضان میں  جامع مسجد میں  لوگوں کو نماز پڑھائیں پس جبک افطار کیاتو مصعب نے پانچ سو درہم اور ایک حلہ عبداللہ بن معقل کے پاس بھیجا تو انہوں نے واپس کردیا اور کہا کہ میں  قرآن پر اجرت نہیں لیتا ۔کذا فی قیام اللیل لمحمد بن نصر المروزی ۔ میرے نزدیک انہیں بعض ائمہ سلف کا قول قابل قبول ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔ کتبہ محمد عبدالرحمٰن المبارکفوری عفاء اللہ عنہ۔

 


فتاوی نذیریہ

جلد 01 ص 642

محدث فتویٰ

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ