سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(160) اگرامام کا نماز میں پاؤں اٹھے تو نماز جاتی رہے گی؟

  • 5667
  • تاریخ اشاعت : 2013-07-07
  • مشاہدات : 427

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ امام مقتدی کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا، جب دوسرا مقتدی آن کر ملا تو امام دونوں پاؤں اٹھا کر داسہ پر جار کھڑا ہوا۔ مولانا اسماعیل صاحب قدس سرہ نے درس عام میں فرمایا تھا کہ اگرامام کا نماز میں پاؤں اٹھے تو نماز جاتی رہے گی ، پس درصورت مرقومہ بالا نماز رہی یا نہیں فقط۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

در صورت مرقومہ اگر امام ایک یا دو قدم آگے بڑھ گیا تو نماز نہیں جاتی ، جیسا کہ عالمگیری میں ہے:

(ترجمہ) ’’اگر نماز کی حالت میں ایک صف کے برابر چلے تو اس کی نماز فاسد نہیں ہوگی اور اگر دو صف کے برابر ایک ہی دفعہ چلے تو نماز فاسد ہوجائے گی اور ایک صف کے برابر چل کر ٹھہر جائے ، پھر ایک اور صف آگے بڑھ جائے تو بھی نماز فاسد نہیں ہوگی۔‘‘

اور اشعۃ اللمعات شرح مشکوٰۃ میں مرقوم ہے:

(ترجمہ) ’’حضرت عائشہؓ کہتی ہیں ،کہ رسول اللہ ﷺ نفلی نماز میں مشغول ہوتے اور دروازہ بند ہوتا میں آکر دروازہ کھٹکھٹاتی تو آپ چند قدم چل کر دروازہ کھول دیتے اور پھر اپنے جائے نماز پرواپس چلے جاتے، مکان کا دروازہ قبلہ کی طرف تھا یعنی آگے بڑھنے اورواپس آنے میں منہ قبلہ ہی کی طرف رہتا اورمکان تنگ تھا، یعنی ایک دو قسم چلتے تھے اور ظہیریہ میں ہے کہ اگر سورج بادل سے نکل آئے اور گرمی زیادہ ہوجائے تو سایہ کی طرف نمازی ایک دو قدم چل کر جاسکتا ہے۔‘‘ واللہ اعلم۔                                     (سید محمد نذیرحسین)

 


فتاوی نذیریہ

جلد 01 

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ