سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(153) زید حافظ قرآن ہے اور اس میں علامات خنثی کے پائے جاتے ہیں...الخ

  • 5660
  • تاریخ اشاعت : 2013-07-07
  • مشاہدات : 473

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

کیافرماتے ہیں علماءے دین اس مسئلہ میں کہ مثلاً زید حافظ قرآن ہے اور اس میں علامات خنثی کے پائے جاتے ہیں ، جیسے محتلم کبھی نہ ہونا اور نشان مردانیت کے معدوم ہونا ، چنانچہ داڑھی مونچھ بالکل نہیں ہے اور آلہ رجولیت بھی نہیں معلوم ہوتا اور بدزبانی غایت درجہ کی ہے اور بدعتی ہرشخص کو کہنا گویا معمولی بات ہے کسی کو بدعت سے ان کے بیان بموجب مخلصی نہیں ہے اور ظہر کی اذان بارہ بجے ، کبھی بارہ بجنے کو باقیرہتے ہیں ، کہہ دیتا ہے اور امامت کا شوق ایسا ہے کہ چاہے کوئی عالم ہو یا قاری بغیر پوچھے پیش امام بن جاتا ہے اور گالیاں اکثر ہر کس و ناکس کو دیتا ہے اور دونوں آنکھ کا اندھا ہے ایسے شخص کو امام مقرر کرنا یا اس کا خود بن  جاناشرعاً بلا کراہت جائز ہے یا نہیں اور تقدیر ثانی پر اس کا کیا حکم ہے؟

سوال  دوم:

اسی زید نے ہندہ بڑھیا کے استاد کو جس سے اس نے قرآن شریف حفظ کیا تھا اور بار بار اس استاد کو سنایا تھا اور برابر اس کے یہاں آتی جاتی تھی۔ ہندہ سے جدا کرنے و ترک ملاقات کا حکم مستحکم نافذ کرکے ہندہ کو سخت پریشان کیا ہے تو آیا مابین استاد و شاگرد ترک موانست و حرمت ملاقات کافتویٰ حق ہے یا ناحق ہے ۔ بینوا توجروا۔


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

زید مذکور اگر خنثےٰ مشکل ہے تو اس کو امام مقرر کرنا یا اس کا از خود امام بن جاناناجائز و نادرست ہے اور خنثےٰ مشکل اس شخص کو کہتے ہیں جس میں آلہ رجولیت و انوثیت دونوں موجود ہوں یا دونوں میں سے کوئی موجود نہ ہو اور زید کا خنثے مشکل ہونا یا تو خود اس کے  اقرار سے ثابت ہوگا یا مشاہدہ سے ، یعنی آلہ رجولیت وآلہ انوثت دونوں موجود ہونا یا دونوں میں سے کسی کا نہ ہونا مشاہدہ سے معلوم ہوا ہو ، اور اگر مشاہدہ سے اس کا خنثےٰ  مشکل ہونے کا اقرار بھی نہ کرتا ہو ، بلکہ  اپنے کو مرد کہتا ہو تو بمجرد داڑھی مونچھ نہ ہونےکے  اور بعض دیگر قرائن مذکورہ ظنیہ سے وہ  خنثےٰ مشکل قرار نہیں دیا جاسکتا بلکہ اس صورت میں مطابق اس کے قول کے وہ مروی قرار دیاجاوے گا۔ ہدایہ میں لکھا ہے کہ خنثے مشکل جب بالغ ہو ، اور اس کا پستان برابر رہے اور عورتوں کی طرح بلند نہ ہو تو وہ مرد ہے کیونکہ  بالغ ہونے کے بعد پستان کا برابررہنا مرد ہونے کی علامت ہے۔  واذا[1] بلغ الخنثی دخرجت لحیتہ اووصل الی النساء فھو رجل و کذا اذا احتلو کما یحتلو الرجال اوکان لہ ثدی مستولان ھذہ من علامات الذکران کذا فی الھدایۃ۔ پس اگر زید مذکور کا پستان مردوں کی طرح برابر ہے تو مطابق  قول صاحب ہدایہ کے وہ مرد ہے  ۔خلاصہ یہ کہ زید مذکور  اگر درحقیقت خنثے ہے تو اس کے پیچھے نماز جائز نہیں ہے اور اگر خنثے نہیں ہے بلکہ مرد ہے تو اس کے پیچھے نماز جائز ہے مگ رجب کہ اس سے اچھا اور بہتر کوئی اور شخص موجود ہو تو اس کے ہوتے ہوئے زید مذکو رامام بنانا نہیں چاہیے اور نہ اس کو از خود امام بننا چاہیے بالخصوص جب کہ لوگ اس کی امامت سے ناخوش ہوں۔

جواب دوم:

مابین ہندہ بڑھیا اور اس کے استاد کے ترک موانست و حرمت ملاقات کا فتوےٰدینا ناحق ہے بشرطیکہ ملاقات میں کسی قسم کے فتنہ کا خوف نہ ہو ، اور اگر ہو تو حق ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب                                              (سید محمد نذیر حسین)



[1]   جب خسرہ بالغ ہوجائے اور ان کی داڑھی نکل آئے یا عورت سے مجامعت کرے تو وہ مرد ہے اور اسی طرح  جب مردوں کی طرح اسے احتلام ہوجائے یا اس کی چھاتی مردوں کی طرح صاف ہو ، تو یہ مرد ہونے کی علامتیں ہیں۔

 


فتاوی نذیریہ

جلد 01 

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ