سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(152) ایک پڑھے لکھے آدمی نے جادو کا علم سیکھا اور اس کے حصول..الخ

  • 5659
  • تاریخ اشاعت : 2013-07-07
  • مشاہدات : 473

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

ایک پڑھے لکھے آدمی نے جادو کا علم سیکھا اور اس کے حصول کے لیے بت کو جاکر سجدہ کیاتیل اور سیندور بت پر لگایا اور اس سے اپنی پیشانی پر قشقہ لگایا اور بائیس روز تک اس بت پر معتکف رہا۔ منتر پڑھتا رہا جب مسلمانوں کا اس کی اطلاع ہوئی تو اس کو ملامت کی کہ یہ کیا بے وقوفی کررہا ہے اس نے کہا کہ پانچویں کلمہ کے پڑھنے سے تمام گناہ بخشے جاتے ہیں میں وہ پڑھ لوں گا اور حالت اس کی اسی طرح ہے اب لوگوں کو جادو کی تعلیم دیتا ہے اور پھیروں کی پرستش کی ترغیب دیتا ہے اس کے پیچھے نماز پڑھنا درست ہے یا نہیں۔؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

یہ آدمی بالکل کافر ہے اس کے پیچھے کبھی نماز نہیں پڑھنی چاہیے  ، شاہ عبدالعزیز اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں ’’جادو کا حکم مختلف ہے  ، اگر سحر قولی یا فعلی میں بتوں اور ارواج خبیثہ کے نام تعظیم سے لئے جائیں ، یا ان میں خداوند صفات مانی جائیں ، مثلاً علم ، قدرت ، غیب  دانی ، مشکل کشائی وغیرہ یا ان کو سجدہ کیا جائے ، یا ان کی نذر  دی جائے یا ان کے نام پر ذبح کیا جائے تو ایسا جادو کفر ہے اور ایسا جادو کرنے والا مرتد ہے اور  اگر کوئی آدمی ایسا جادو اپنے مطلب کے لیے کسی سے دیدہ دانستہ کرائے تو وہ بھی کافر ہے ۔ اس پر مرتد کے احکام جاری ہوں گے اگر مرد ہے تو اس  کو تین دن کی مہلت دی جائے کہ توبہ کرے اور اگر تین روز کے بعد بھی توبہ نہ کرے تو اس کو قتل کردینا چاہیے۔

تفسیر مدارک میں ہے ’’مطلقا جادو کو  کر کہہ دینا غلطی ہے اگر اس میں ایمان کے لوازمات کارد ہو ، تو کفر ہے ورنہ نہیں اور سحر کفر پر مرد جادو گر کو قتل کیا جائے گا اور اگر کفر نہیں لیکن اس سے کوئی آدمی مرسکتا ہے تو ایسے جادو گر کا حکم ڈاکو کا ہے اور اس میں مرد عورت برابر ہیں ، اس کی توبہ قبول کی جائے گی ، بغوی نے کہا  ، جادو حق ہے اور اس پر عمل کرنے والا کافر ہے۔


فتاوی نذیریہ

جلد 01 

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ