سرچ انجن کی نوعیت:

تلاش کی نوعیت:

تلاش کی جگہ:

(148) اگر مخنث کسی جگہ امامت کرائے یا اذان کہے یا کسی مقدمہ..الخ

  • 5655
  • تاریخ اشاعت : 2013-07-07
  • مشاہدات : 640

سوال

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اگر مخنث کسی جگہ امامت کرائے یا اذان کہے یا کسی مقدمہ میں گواہی دے یا جائز ہے یا نہیں؟


الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال

وعلیکم السلام ورحمة اللہ وبرکاته
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اگر مخنث میں امامت کی شرائط پائی جاتی ہوں تو اس کی امامت درست ہے ، اذان بھی درست ہے ، اس کی شہادت بھی مقبول ہے ۔ بےختنہ اور خصی کی شہادت بھی قبول ہے۔ حضرت عمرؓ نے علقمہ کی شہادت قبول کرلی تھی ، حالانکہ وہ خصی تھا کیونکہ اس نے اپنے جسم سے ایک عضو ظلم سے کام دیاتھا جیسا کہ کسی کا  ہاتھ کٹا ہو۔

 


فتاوی نذیریہ

جلد 01 

ماخذ:مستند کتب فتاویٰ